***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > جنازہ کے مسائل

Share |
سرخی : f 1390    نماز جنازہ میں تکبیرات فوت ہوں تو کیا کرنا چاہئے ؟
مقام : دمام,
نام : محمدعبد الکریم
سوال:    

مفتی صاحب !میں نے ایک جنازہ میں شرکت کی ، وضو کرکے آنے تک جماعت کھڑی ہوچکی تھی ،میں تو نماز کے شروع ہی میں شریک ہوگیا لیکن کچھ لوگوں کو آنے میں تاخیر ہوئی ، ان کی ایک یا دو تکبیریں چھوٹ گئیں ،اگر نماز جنازہ میں امام صاحب تکبیر کہہ چکے ہوں اور کوئی ایسی حالت میں شریک ہوتو نمازمیں کس طرح شامل ہوں گے، پھراس کی تکمیل کس طرح ہوگی ؟برائے مہربانی تشفی بخش جواب دیں ۔ شکریہ


............................................................................
جواب:    

کوئی شخص اگرنماز جنازہ کے درمیان آئے جبکہ ایک تکبیر ہوچکی ہو تو درمیان میں شریک نہ ہو بلکہ دوسری تکبیر کا انتظار کرے ‘جب امام صاحب دوسری تکبیرکہیں تو اُن کے ساتھ تکبیرکہتے ہوئے نماز میں شریک ہوجائے ‘اسی طرح دوتکبیروں کے بعد آنے والا شخص تیسری تکبیر کا انتظار کرے اور تیسری تکبیر کے ساتھ شریک جماعت ہوجائے اور تین تکبیریں چھوٹنے پربھی اسی طرح عمل کرے پھرجب چار تکبیریں ہوجائیں توجس کی تکبیرات فوت ہوئیں اس کے لئے حکم شریعت یہ ہے کہ وہ امام کے ساتھ سلام نہ پھیرے بلکہ اپنی فوت شدہ تکبیرات کہہ کر سلام پھیرے۔ جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ہے :وإذا جاء رجل وقد کبر الإمام التکبیرۃ الأولی ولم یکن حاضرا انتظرہ حتی یکبر الثانیۃ ویکبر معہ فإذا فرغ الإمام کبر المسبوق التکبیرۃ التی فاتتہ قبل أن ترفع الجنازۃ وہذا قول أبی حنیفۃ ومحمدرحمہما اللہ تعالی وکذا إن جاء وقد کبر الإمام تکبیرتین أو ثلاثا ، کذا فی السراج الوہاج .(فتاوی عالمگیری ،کتاب الصلٰوۃ الباب الحادی والعشرون فی الجنائز‘ الفصل الخامس فی الصلٰوۃ علی المیت )۔ واللہ اعلم بالصواب سید ضیاء الدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدرابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com حیدرآباد ، دکن ،انڈیا

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com