***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > حیض ونفاس کے مسائل

Share |
سرخی : f 1392    ایام حیض میں سنی ہوئی آیتِ سجدہ کا حکم
مقام : پربھنی ،انڈیا,
نام : ھاجرہ پروین
سوال:    

میں نے ویب سائٹ پرفتاوی سکشن میں پڑھی کہ لڑکیاں اپنے "ایام "میں نہ زبانی قرآن کریم کی تلاوت کرسکتی ہیں اور نہ قرآن کریم کو چھوسکتی ہیں ۔ اس سے ہمیں بہت فائدہ ہوا ۔ ہماری سوسائٹی میں بہت سی عورتیں اس مسئلہ سے ناواقف تھیں ۔ یہ جواب پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوا کہ ایسے وقت عورت کسی کو آیت سجدہ تلاوت کرتے ہوئے سنے تو کیا اس کو اپنے ایام گذرنے کے بعد سجدہ تلاوت کرنا چاہئے ؟


............................................................................
جواب:    

عورت اپنے ایام حیض میں کسی تلاوت کرنے والے شخص سے آیت سجدہ سن لے تو اس پر سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوتا ۔ فتاوی عالمگیری ج 1ص 38میں ہے :الحائض اذا سمعت آیۃ السجدۃ لا سجدة علیھا ۔ ترجمہ : حائضہ عورت آیت سجدہ سن لے تو اس پر سجدہ تلاوت واجب نہیں ۔ لہذا ایام حیض میں سنی ہوئی آیت سجدہ کی وجہ سے حالت طہر میں سجدۂ تلاوت از روئے شریعت لازم و ضروری نہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com