***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > نماز کی سنتیں اور مستحبات

Share |
سرخی : f 1393    حالت نماز میں جماہی روکنے کا طریقہ
مقام : ورنگل ،انڈیا,
نام : محمداکرام علی
سوال:     جماہی آتی ہے تو ہم منہ پر ہاتھ رکھتے ہیں ، لیکن کیا نماز کی حالت میں بھی ایسا ہی کرناچاہئے یا کوئی اور طریقہ ہے ؟ شرعی حکم سے آگاہ فرمائیں ، نوازش ہوگی ۔
............................................................................
جواب:     جماہی شیطان کی جانب سے ہوتی ہے ،اس لئے اللہ تعالیٰ اس کو ناپسند کرتا ہے ۔ مشکوٰۃ المصابیح ،کتاب الآداب ، باب العطاس والتثاؤب ،الفصل الاول،ص 405میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک طویل روایت ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : فاماالتثاؤب فانما ھو من الشیطٰن فاذا تثاؤب احدکم فلیردہ مااستطاع فان احدکم اذا تثاؤب ضحک منہ الشیطان رواہ البخاری و فی روایۃ لمسلم فان احدکم اذا قال ھاضحک الشیطان منہ ۔
   ترجمہ :جماہی تو شیطان کی طرف سے ہے جب تم میں سے کسی کو جماہی آئے تو جہاں تک ہوسکے اسے دفع کرے کیوں کہ جب تم میں سے کوئی جماہی لیتا ہے تو اس سے شیطان ہنستا ہے ۔ یہ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جب تم میں سے کوئی ’’ہا ‘‘کہتا ہے تو شیطان اس سے ہنستا ہے ۔  
یہی وجہ ہے کہ فقہاء کرام نے عمداً جماہی لینے کو مکروہ قرار دیا خواہ اندرون نماز ہو یا بیرون نماز ۔ درمختار ج 1ص 476 میں ہے : وکرہ ۔ ۔ ۔  (والتثاؤب ) ولوخارجھا ذکرہ مسکین لانہ من الشیطان۔
   حالت نماز میں چوں کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں ہوتا ہے ، اس لئے اس کو آداب نماز کا مکمل لحاظ رکھنا چاہئے کیوں کہ جماہی کے وقت شیطان منہ میں داخل ہوتا ہے ۔  
جیساکہ صحیح مسلم شریف میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: إِذَا تَثَاوَبَ أَحَدُکُمْ فَلْیُمْسِکْ بِیَدِہِ عَلَی فِیہِ فَإِنَّ الشَّیْطَانَ یَدْخُلُ ترجمہ:جب تم میں سے کوئی جماہی لینے لگے تو اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لے کیو ںکہ شیطان منہ میں داخل ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم شریف ، کتاب الزھد والرقائق ، باب تشمیت العاطس وکراھۃ التثاؤب،حدیث نمبر:7683)  
اگر حالت نماز میں جماہی آجائے تو اپنے دانتوں سے ہونٹوں کو پکڑکر اس کو روکنے کی مکمل کوشش کرے ،اگر حالت قیام میں ہو اور جماہی قابو سے باہر ہوجائے اور دانت سے ہونٹ کو دباکر روکنا ممکن نہ ہو تو اپنے داہنے ہاتھ کی پشت سے روکے یا آستین وغیرہ سے روکے ۔ (ردالمحتار ج 1،کتاب الصلوٰۃ ، آداب الصلوٰۃ،ص 353 )
   علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ نے ردالمحتار ج 1،کتاب الصلوٰۃ ، آداب الصلوٰۃ،ص 353 میں جماہی روکنے کی نہایت آسان اور مجرب ترکیب امام زاہدی کے حوالہ سے ذکر فرمائی ہے کہ جماہی لینے والا شخص دل میں یہ خیال کرے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کو کبھی جماہی نہیں آئی تو جماہی اس سے خودبخود دفع ہوجائے گی ۔ امام قدوری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ ہم نے اس نسخہ کابارہا تجربہ کیا تو ایسا ہی پایا ۔ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :میں نے بھی اس کا تجربہ کیا تو ایسا ہی پایا۔  
( فائدۃ ) رأیت فی شرح تحفۃ الملوک المسمی بہدیۃ الصعلوک ما نصہ : قال الزاہدی : الطریق فی دفع التثاؤب أن یخطر ببالہ أن الأنبیاء علیہم الصلاۃ والسلام ما تثاء بوا قط .قال القدوری : جربناہ مرارا فوجدناہ کذلک .ا ہ۔ .قلت : وقد جربتہ أیضا فوجدتہ کذلک (ردالمحتار ج 1 ،کتاب الصلوٰۃ ، آداب الصلوٰۃ،ص 353) ۔  
واللہ اعلم بالصواب ۔
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com