***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > وضو کے مسائل

Share |
سرخی : f 1396    دورانِ وضو ’’بسم اللہ ،،یاد آئے تو کیا کرناچاہئے ؟
مقام : رائچور ، انڈیا,
نام : نوید اسلم
سوال:     مفتی صاحب !میں کوئی بھی کام کرتاہوں تو بسم اللہ ضرور پڑھتا ہوں کبھی بھول جاتا ہوں ،وضومیں جو بسم اللہ پڑھنا ہے اگر میں بھول جاؤں اور وضو کے درمیان یاد آجائے تو مجھے کیا کرنا چاہئے ؟ کیا درمیان میں پڑھنے سے مجھے سنت کا ثواب ملے گا؟
............................................................................
جواب:     وضوکے آغاز میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم،، پڑھنا مسنون ہے ، اگر آپ وضو شروع کرتے وقت ’’ بسم اللہ ،، پڑھنا بھول جائیں اور دوران ِوضو یاد آجائے تو پڑھ لیں ’’ بسم اللہ ،، آغاز میں نہ پڑھ کر دوران وضو پڑھنے سے اگر چہ مذکورہ سنت کی ادائیگی نہیں ہوتی تاہم اللہ کے ذکر کا ثواب حاصل ہوگا اور اس کی برکت رہے گی ۔
فتاوی عالمگیر ی ، کتاب الطھارۃ ، الباب الاول فی الوضوء ، الفصل الثانی فی سنن الوضوء میں ہے : التسمیۃ سنۃ مطلقا غیر مقید بالمستیقظ وتعتبر عند ابتداء الوضوء حتی لو نسیہا ثم ذکر بعد غسل البعض وسمی لا یکون مقیما للسنۃ بخلاف الأکل ونحوہ ہکذا فی التبیین . فإن نسیہا فی أول الطہارۃ أتی بہا متی ذکرہا قبل الفراغ حتی لا یخلو الوضوء عنہا۔
واللہ اعلم بالصواب ۔
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com