***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان > مہر کے مسائل

Share |
سرخی : f 1401    شادی کے وقت مہرمقررنہ کریں تو کیا حکم ہے؟
مقام : انڈیا,
نام : عبدالواحد
سوال:    

السلام علیکم جناب! میرے دوست کی شادی ہوکر 6 سال ہوئے ‘ شادی کے وقت سب بھائی مل جل کر رہتے تھے‘ میرے دوست بھی جاب کرتے تھے، لیکن شادی کے وقت مہر کتنا ہے میرے دوست کو نہیںمعلوم، اور ان کے بھائی سونے کی شکل میں 2/3 تولے سوناادا کرے‘ اب میرے دوست کو یہ ڈر ہے کہ شائد ان کا مہر ادا ہوا یا نہیں‘ اب میرے دوست نقد پیسے دینا چاہتے ہیں‘ کیا دے سکتے ہیں؟ یا پھر سے مہر مقرر کرکے دینا ہوگا ؟ یا جتنا چاہے نقد دے سکتے ہیں؟ یا پھر مہر جو شادی کے وقت سونا دئیے تھے ادا ہوگیا؟ مہربانی فرماکر رہنمائی فرمائیں‘ اللہ حافظ۔


............................................................................
جواب:    

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ! آپ کے دوست کی شادی کے موقع پر اگر دو یا تین تولے سونا مہر مقرر کیا گیا تھا اور ان کے بھائی نے ان کی جانب سے ادا کیا تو مہر کی ادائیگی ازروئے شریعت ہوچکی۔ اوراگر ان کے بھائی نے وہ سونا نوشہ کی جانب سے بطور مہر نہیں بلکہ اپنی جانب سے بطور تحفہ دیا تھاتو بطور مہر سونے کی مقررہ مقدار ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر عقد نکاح کے موقع پر کچھ مہر مقرر نہیں کیا گیا تھا تو نوشہ کے ذمہ مہر مثل ادا کرنا ہوگا‘ مہر مثل سے مراد وہ مہر ہے جو لڑکی کے والد کے خاندان کی خواتین کا رہا ہو جو عمر‘ خوبصورتی‘ دولت‘ علاقہ‘ دیانت داری‘ اخلاق‘ دوشیزہ یا شادی شدہ ہونے اور صاحب اولاد ہونے میں اس لڑکی کے مماثل ہو‘ اگر والد کے خاندان کی خواتین کا مہر معلوم نہ ہو یا وہ خواتین مذکورہ اوصاف میں لڑکی کے برابر نہ ہوں تو اس جیسے نسب والی کسی بھی خاتون کا مہر دیکھا جائے جو مذکورہ اوصاف میں اس لڑکی کے مماثل ہو۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com