***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > نماز کی سنتیں اور مستحبات

Share |
سرخی : f 1404    کیاچھوٹے بچوں کا بڑوں کی صف میں کھڑے ہونا درست ہے؟
مقام : ابوظبی UAE,
نام : شیخ مسعود
سوال:     کیا چھوٹے او رنابالغ بچوں کو بڑوں کی صف میں ٹہرنے کی شریعت میں اجازت ہے ؟ او ربچوں کی امامت شرعاًدرست ہے یا نہیں؟
............................................................................
جواب:     شریعت میں بچوں کونمازسکھا نے کا حکم ہے اس لئے سات سال کی عمر والے بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے جہاں بچوں کونماز کی تعلیم کا حکم دیا گیا وہیں نماز کیلئے صف بندی کے آداب بھی بتلائے گئے کہ پہلے بڑوں کی صف ہو پھر بچوں کی ،بچے بڑوں کی صف میں نہ ٹہریں۔
فتاویٰ عالمگیری ج 1 ،کتاب الصلوۃ،الباب الخامس فی الامامۃ ،الفصل الخامس فی بیان مقام الامام والماموم ص 88/89میں ہے ’’ولو اجتمع الرجال والصبیان والخناثی والاناث والصبیات المراہقات یقوم الرجال اقصی مایلی الامام ثم الصبیان۔
نابالغ بچے کی اقتداء جائز نہیں،فر ض نماز میں ہو یا نفل نماز میں ،اس لئے کہ فرض نماز اس کے حق میں نفل ہے اوربچہ کی نفل کی حیثیت بالغ کی نفل سے کم درجہ ہے ۔فتاوی عالمگیری ج 1کتاب الصلوۃ الباب الخامس فی الامامۃ  ص 85میں ہے المختارانہ لایجوزفی الصلوات کلھا کذافی الہدایۃ،
ہدایہ ج 1،کتاب الصلوۃ باب الامامۃص124میں ہے  ’’لان نفل الصبی دون نفل البالغ۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com