***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > زہد کا بیان

Share |
سرخی : f 1408    انٹر نیٹ پر چیاٹنگ کاشرعی حکم
مقام : امریکہ,
نام : محمدفرید
سوال:    

آج کل نوجوان طبقہ انٹرنیٹ پر چیاٹنگ میں مشغول ہے، نوجوان لڑکے گھنٹوں انٹرنیٹ پر وقت گذاری کرتے ہیں، پوری دنیا میں انٹرنیٹ مربوط ہونے کی وجہ سے وہ جس سے چاہے گفتگوکرنے لگتے ہیں ، اس طرح اجنبی عورتوں سے بلاجھجک دیر تک گفتگو ہوتی ہے انٹرنیٹ پر اس طرح چیاٹنگ کرنا کیسا ہے ؟


............................................................................
جواب:    

چیاٹنگ کے معنی باہم بات اور گفتگو کرناہے جو ضرورت کی حدتک جائز ومباح ہے، لایعنی گفتگوکرنا اور لغویات میں مصروف رہنا جس طرح بالمشافہ روبرو ناپسندیدہ ہے اسی طرح فون ، انٹرنیٹ وغیرہ پربھی ممنوع ہے ،مومن کی شان یہ ہے کہ وہ لغوگفتگو کرنا تو درکنار لغویات کی طرف رخ بھی نہیں کرتا ، اللہ تعالی نے فلاح پانے والے مؤمنین کی جو صفات بیان کی ہیں منجملہ ان کے یہ ہے : والذین ھم عن اللغو معرضون- ترجمہ:یہ وہ ہیں جو ہر بے ہودہ چیز سے روگردانی کرتے ہیں – (سورۃ المؤمنون ۔3) وقت وفرصت ایک بیش بہا دولت اورعظیم ترین نعمت ہے جس کی قدردانی لازم وضروری ہے ، بروز محشر ایک ایک لمحہ کا جواب دینا پڑے گا ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانہ فرصت کوغنیمت جاننے کا حکم فرمایا اوراس کو خیروصلاح ، رشد وھدایت کے کاموں میں خرچ کرنے کی تعلیم دی ہے ، محدث دکن حضرت سید عبداللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ نے زجاجۃ المصابیح ج 4، ص 148/149، میں بحوالہ جامع ترمذی شریف حدیث مبارک نقل فرمائی ہے۔عن عمروبن میمون الاودی قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیھ وسلم لرجل وھو یعظھ اغتنم خمسا قبل خمس شبابک قبل ھرمک وصحتک قبل سقمک وغنا ک قبل فقرک وفراغک قبل شغلک وحیاتک قبل موتک رواہ الترمذی مرسلا۔ ترجمہ:حضرت عمروبن میمون اودی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں حضرت رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: تم پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو! اپنی جوانی کو ضعیفی سے پہلے غنیمت جانو، اپنی صحت کو بیماری سے پہلے اور مالدار ی کو تنگدستی سے پہلے اور فرصت کو مشغولیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے- ونیزیہ حدیث شریف مسند امام احمد کتاب الرقاق حدیث نمبر:7957،اورامام بیہقی کی شعب الایمان، میں مذکور ہے، حدیث نمبر:9882- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک سعادت مند ونیک بخت مسلمان وہ ہے جواپنے وقت عزیز کی قدردانی کرے اور اس کو لایعنی کاموں میں ضائع نہ کرے، بناء بریں انٹرنیٹ پر لایعنی امور میں وقت عزیز کو ضائع کرنا، اجنبی عورتوں سے گفتگو کرنا ناجائز وممنوع ہے اور بروزمحشر اس کی بازپرس ہوگی، درمختار ، ج5،کتاب الحظروالاباحۃ،فصل فی النظروالمس ص 260، میں ہے: ولایکلم الاجنبیۃ- مرد کے لئے جائز نہیں کہ وہ اجنبی عورت سے گفتگو کرے البتہ تجارت وکاروبارسے متعلق یا شرعی مسائل میں رہبری کی ضرورت لاحق ہوتو بقدر ضر ورت چیاٹنگ کرنے میں کوئی حرج نہیں تاہم اس امر کا لحاظ رہے کہ تضیع اوقات نہ ہونے پائے۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com