***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > حج وعمره کا بیان > طواف کے مسائل

Share |
سرخی : f 1410    ابتدائی تین چکروں میں رمل بھول جائے تو کیا حکم ہے؟
مقام : ممبئی,
نام : خالد اکرم
سوال:     ایک صاحب نے عمرہ کیا اور عمرہ کے طواف میں شروع کے تین پھیروں میں رمل کرنا بھول گئے، رمل کا خیال آنے پر انہوں نے آخری تین چکروں میں رمل کرکے طواف مکمل کرلیا، کیا ان کا طواف ہوا یا نہیں؟ پہلے تین پھیروں میں رمل کرنا بھولنے کی صورت میں کیا بعد والے چکروں میں رمل کر سکتے ہیں؟ یا اس کی وجہ سے دم دینا ہوگا؟
............................................................................
جواب:     جس طواف کے بعد سعی کرنا ہو اس میں ابتدائی تین چکروں میں رمل کرنا سنت ہے جیسا کہ صحیح مسلم شریف میں حدیث پاک ہے:
  عن ابن عمر رضی اللہ عنہماقال رمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من الحجر الی الحجر ثلاثا ومشی اربعا۔

  ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل فرماتے ہوئے تین چکر پورے کئے او رچار چکر معمول کے مطابق چلتے ہوئے مکمل فرمائے۔ (صحیح مسلم ،کتاب الحج ، باب استحباب الرمل فی الطواف الخ حدیث نمبر: 3110)
اس حدیث پاک کی بنیاد پر فقہاء کرام نے فرمایاکہ جس طرح ابتدائی تین چکروں میں رمل کرنا سنت ہے،  اسی طرح بقیہ چار چکروں میں رمل نہ کرنا مسنون ہے ، لہذا ابتدائی تین چکروں میں اگر رمل کرنا بھول جائیں تو ایک سنت فوت ہوگی، لیکن اس کی وجہ سے باقی چکروں میں رمل نہیں کرنا چاہئے، اگر ایسے وقت اخیر چکروں میں رمل کیا جائے تو دوسنتیں فوت ہوں گی ایک ابتدائی تین چکروں میں رمل کرنے کی سنت ترک ہوگی‘ دوسری اخیر چار چکروں میں رمل نہ کرنے کی سنت چھوٹ جائیگی۔ ظاہر ہے کہ ایک سنت ترک کرنے کی کراہت ‘ دوسنتیں ترک کرنے کی کراہت سے ہلکی اور خفیف ہے‘ لیکن خلاف سنت عمل کی وجہ سے دم واجب نہیں ہوتا۔
جو صاحب عمرہ کے طواف میں رمل کرنا بھول گئے ، انہیں اخیر چکروں میں رمل نہیں کرنا چاہئے تھا‘ اس کی وجہ سے وہ دوسنتوں کے تارک ہوئے اور ان کا یہ عمل مکروہ ہے۔
رد المحتار، کتاب الحج، فصل فی الإحرام وصفۃ المفرد بالحج میں سنتوں کے تحت مرقوم ہے:
قال فی الفتح ولو مشی شوطا ثم تذکر لا یرمل إلا فی شوطین وإن لم یذکر فی الثلاثۃ لا یرمل بعد ذلک اہ۔ أی لأن ترک الرمل فی الأربعۃ سنۃ ، فلو رمل فیہا کان تارکا للسنتین وترک إحداہما أسہل بحر، ولو رمل فی الکل لا یلزمہ شیء والوالجیۃ ، وینبغی أن یکرہ تنزیہا لمخالفۃ السنۃ بحر۔

واللہ اعلم بالصواب ۔
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com