***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان

Share |
سرخی : f 1415    اولاد جنم نہ دینے کی شرط کے ساتھ نکاح کرنا
مقام : شارجہ,
نام : محمد نعیم الدین
سوال:    

بعض ممالک میں لڑکیاں اس کنڈیشن پر نکاح کی پیشکش کررہی ہیں کہ انہیں نان نفقہ‘ رہائش‘ مہر‘ کچھ نہیں چاہئے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ شادی کے بعد بچہ جنم نہیں دیںگی‘ اگر اس بات پر شادی طے پائے اور نکاح ہوجائے‘ تو اس سے متعلق شرعی حکم کیا ہوگا؟ جب کہ اسی کنڈیشن کے ساتھ شادی طے پائی ہو۔ شرعی رہنمائی فرمائیں مہربانی ہوگی۔


............................................................................
جواب:    

نکاح کا مقصد عفت وعصمت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ حصول اولاد اور افزائش نسل بھی ہے‘ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے: وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ ۔ ترجمہ: اور مذکورہ (خواتین) کے علاوہ تمہارے لئے حلال کی گئی ہیں کہ تم ان سے مال کے عوض اولاد حاصل کرو، پاک دامن رہتے ہوئے نہ کہ شہوت رانی کرتے ہو ئے . (سورۃ النساء۔24) لہذا لڑکیوں کا نکاح کے موقع پر اولاد جنم نہ دینے کی شرط لگانا‘ مقصدِنکاح کے منافی ہے اور جو شرط مقتضائے عقد کے خلاف ہو وہ شرعاً باطل ہے لیکن عقد نکاح بہرحال درست قرار پاتا ہے‘ چنانچہ صورت مسؤل عنہا میں لگائی جانے والی شرط باطل اور کالعدم ہے اور شرعاً نکاح درست وصحیح ہے.ازدواجی تعلق کے موقع پر مانع حمل تدبیر اختیار کرنے سے گریز کرنا چاہئے. البتہ جہاں تک نان نفقہ‘ رہائش‘ مہر وغیرہ معاف کرنے کی بات ہے تو یہ عورتوں کے حقوق ہیں جو شوہروں کے ذمہ عقد نکاح کی وجہ سے لازم ہوتے ہیں‘ اگر اس کو وہ اپنی رضامندی سے معاف کرنا چاہیں توشرعاً انہیں اختیار ہے۔ رد المحتار میں حلالہ کی شرط کے ساتھ نکاح کرنے کے مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے علامہ ابن عابدین شامی نے تحریر فرمایاہے: لأنه لا شک أنه شرط في النکاح لايقتضيه العقد وهو مما لايبطل بالشروط الفاسدة ، بل يبطل الشرط ويصح ۔ (رد المحتار، کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، مطلب حیلۃ إسقاط عدۃ المحلل ج2، ص586) واللہ اعلم بالصواب سید ضیاء الدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com حیدرآباد ، دکن ،انڈیا

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com