***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > امامت کے مسائل

Share |
سرخی : f 1421    چھوٹی ہوئی رکعتیں پڑھنے والے کی اقتداء
مقام : بارکس,
نام : علی بن حاجب
سوال:     جس شخص کی رکعتیں چھوٹ گئیں وہ امام صاحب سلام پھیرنے کے بعد اپنی نماز مکمل کرلیتا ہے، بعض مقامات پر دیکھنے میں آتا ہے کہ جو شخص اپنی چھوٹی ہوئی رکعت پڑھ رہا ہو، جماعت کے بعد مسجد میں آنے والے لوگ اس کے پیچھے نماز پڑھنے لگتے ہیں، دریافت کرنا یہ ہے کہ کیا ایسے شخص کو امام بنا کر اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے نماز صحیح ہوتی ہے یا نہیں؟ جواب عنایت فرمائیں نوازش و کرم ہوگا۔
............................................................................
جواب:     باجماعت نماز کے موقع پر جس شخص کی ایک یا ایک سے زائد رکعتیں چھوٹ گئی ہوں اسے اصطلاح شریعت میں مسبوق کہا جاتا ہے،مسبوق جب اپنی فوت شدہ رکعتیں پڑھ رہا ہو تو اس کی اقتداء فقہاء احناف کے پاس درست نہیں ، فقہاء شافعیہ کے نزدیک مسبوق کی اقتداء کرنے کی گنجائش ہے ۔
در مختار برحاشیہ رد المحتار میں ہے: (والمسبوق من سبقہ الامام بہا او ببعضہا وھو منفرد)۔ ۔ ۔  (الا فی اربع) فکمقتد اخذ ھا (لا یجوز الاقتداء بہ)۔
(در مختار برحاشیہ رد المحتار، ج1، کتاب الصلوۃ، مطلب فی احکام المسبوق والمدرک واللاحق، ص441)
فقہ شافعی کی کتاب تحفۃ المحتاج فی شرح المنہاج میں ہے: ( فإن فرغ الإمام أولا فہو کمسبوق ) فیقوم ویتم صلاتہ وحینئذ یجوز الاقتداء بہ۔ (تحفۃ المحتاج فی شرح المنہاج ، کتاب الصلوۃ، فصل فی زوال القدوۃ وإیجادہا وإدراک المسبوق للرکعۃ)۔
واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com