***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عقائد کا بیان > متفرق مسائل

Share |
سرخی : f 1424    غیرصحابی کےلئے رضی اللہ عنہ کہنے کا حکم
مقام : انڈیا,
نام : محمد شہاب الدین
سوال:     میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم حضرت غیرب نواز رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ رضي اللہ عنہ لکھ سکتے ہیں؟
............................................................................
جواب:     ’’رضی اللہ عنہ‘‘ یہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لئے بطور خاص اور صالحین امت واولیاء کرام کے لئے بطور عام کہا جاتا ہے کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی نے سورة البينة،میں  ایمان لانے والے اور اعمال صالحہ کرنے والے بندوں کی جزا  اور ان کے لئے جنت الخلد کی نعمت لازوال کا وعدہ فرماکر مزید رضا وخوشنودی کی بشارت اس طرح عطا فرمائی:   رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ ذلک لمن خشی ربہ۔
ترجمہ:اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں یہ اس کے لئے ہے جواپنے رب سے ڈرے۔( سورة البينة:8)
      قرآن کریم میں رضی اللہ عنہ ان کے لئے کہا گیا جن کے دل خشیت الہی سے معمور اور خوف خدا سے لبریز ہیں، علاوہ ازیں سورۂ توبہ میں سابقین اولین ،انصار ومہاجرین ،صحابہ کرام اور قیامت تک آنے والے ان کے متبعین کاملین کے لئے رضوان رب اور خوشبودی حق کا اعلان ’’رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ‘‘سے کیا گیا ۔
  وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ-
(سورة التوبة:100)
مذکورہ آیت کریمہ میں ’’رضی اللہ عنہم‘‘صحابہ کرام کے ساتھ قیامت تک آنے والے ان حضرات کے لئے کہا گیا جو بھلائی واحسان کے ساتھ ان کی اتباع وپیروی کرتے رہیں گے جیسا کہ صاحب تفسیرروح البیان علامہ اسماعیل حقی حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:والتابعون ہم اہل الایمان الی یوم القیمۃ (روح البیان ج 3 ص514)
     اسی وجہ سے محدثین وفقہاء نے سلف صالحین کے لئے رضی اللہ عنہ کے الفاظ استعمال کئے ہیں،چنانچہ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے استاذ امام جلال الدین محلی شافعی رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ ذکر کیا ہے جیساکہ تفسیر جلالین ص 240، پر ہے:ہذا آخر ما کملت بہ تفسیر القرآن العظیم الذی الفہ الامام العلامۃ المحقق جلال الدین المحلی الشافعی رضی اللہ عنہ۔      ونیز حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ بارہا  رضی اللہ عنہ کہا ہے جیساکہ شرح مسند ابوحنیفہ میں ہے:ولہ رضی اللہ عنہ مسانید کثیرۃ۔ترجمہ:اور آپ(امام اعظم)رضی اللہ عنہ کے بہت زیادہ مسانید ہیں(شرح مسند ابی حنیفۃ ،ص 7)اور صفحہ41، پر فرمایا:    فقد قال ابو حنیفۃ رضی اللہ عنہ
اور صفحہ141، پر ہے:
   وقال ابو حنیفۃ رضی اللہ عنہ فریضۃ القراء ۃ۔۔۔۔۔   
علامہ امام بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں متعدد مرتبہ امام اعظم رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ ’’رضی اللہ عنہ ‘‘ذکر کیا ہے، چناچہ عمدۃ القاری ج 1،ص226، پر رقمطرازہیں :   ۔۔۔ وروی عنہ الامام ابو حنیفۃ رضی اللہ عنہ۔
       صاحب ہدایۃ امام مرغینانی رحمۃ اللہ علیہ نے امام قدوری رضی اللہ عنہ  کو بارہا رضی اللہ عنہ لکھا ہے اور صاحب ہدایۃکے لئے ان کے شاگردوں نے رضی اللہ عنہ تحریر کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کے علاوہ اولیاء اللہ وبزرگان دین کے لئے بھی رضی اللہ عنہ کہنا  بزرگوں کا طریقہ رہا ہے ۔  معروف اولیاء کرام و ائمہ عظام اور صالحین امت جنکی نسبت صحابہ کرام ہونے کا اشتباہ نہ ہوتا ہو تو ان کے لئے رضی اللہ عنہ کا استعمال بلا شبہ جائز ودرست ہے ،البتہ جن کے اسماء صحابہ کرام کے اسماء گرامی پر ہوں اور ان کا غیر صحابی ہونا معروف نہ ہو ان کے بارے میں رضی اللہ عنہ کے استعمال سے صحابی ہونے کا اشتباہ ہوتا ہو تو رحمہ اللہ تعالی ،علیہ الرحمۃ،علیہ الرحمۃ والرضوان پر ہی اکتفاء بہتر ہے-
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com