***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان

Share |
سرخی : f 1425    عورت کا دعویٔ نکاح کب قابل قبول ہے؟
مقام : شارجہ,
نام : شاہنواز خان
سوال:     میرا سوال یہ ہے کہ عورت کسی کی بیوی ہونے کا دعوی کررہی ہے اور مرد انکار کررہا ہے تو ایسی صورت میں کس کی بات صحیح سمجھی جائے گی؟ بتلائیں کہ اس کے متعلق شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے۔ کیا عورت کے دعوی کو قبول کرلیا جائے یا مرد کے انکار کوتسلیم کیا جائے ؟
............................................................................
جواب:     حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: لو یعطی الناس بدعواہم لادعی رجال أموال قوم ودماء ہم ولکن البینۃ علی المدعی والیمین علی من أنکر۔ ترجمہ: اگر لوگوں کو محض ان کے دعوی کی بنیاد پر عطاکر دیاجاتا تو ضرور کچھ لوگ قوم کے مال ودولت اور خون بہا کا دعوی کرنے لگتے لیکن حقیقت یہ ہیکہ دعوی کرنے والے کے ذمہ شرعی ثبوت پیش کرنا ہے اور انکار کرنے والے پر قسم لازم ہے۔ (سنن البیہقی‘ کتاب الدعوی والبینات‘ باب البینۃ علی المدعی والیمین علی المدعی علیہ‘ حدیث نمبر21733)
اس حدیث پاک کی روشنی میں فقہاء کرام نے کہا ہے کہ اگر کوئی عورت کسی شخص کے نکاح میں ہونے کا دعوی کرتی ہے اور مرد اسے اپنی منکوحہ ماننے سے انکار کرتا ہے تو ایسی صورت میں حکم شریعت یہ ہے کہ عورت سے بینہ طلب کیا جائے‘ اگر وہ شرعی بینہ پیش کردے تو اسی کی بات کا اعتبار کیاجائے گااور وہ اس مرد کی بیوی قرار پائے گی۔ اگر عورت شرعی بینہ پیش نہ کرسکے تومرد سے قسم لی جائے گی‘ قسم کے ساتھ مرد کی بات قابل قبول ہوگی‘ شرعی بینہ نہ ہونے کی صورت میں اگر وہ شخص قسم کے ساتھ انکار کرے تو دونوں ایک دوسرے کے لئے اجنبی قرار پائیں گے۔
فتاوی عالمگیری کتاب الدعوی الفصل الاول فی الاستحلاف والنکول میں ہے: وإن ادعی رجل علی امرأۃ أنہ تزوجہا وأنکرت المرأۃ ذلک أو ادعت المرأۃ النکاح وأنکر الرجل۔ ۔ ۔  عند أبی حنیفۃ - رحمہ اللہ تعالی - لا یستحلف المنکر فی ہذہ المسائل السبع وعندہما یستحلف وإذا نکل یقضی بالنکول کذا فی النہایۃ۔نیز رد المحتار میں ہے:والحاصل أن المفتی بہ التحلیف فی الکل إلا فی الحدود۔(رد المحتار،کتاب الوقف)
واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com