***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حلال و حرام کا بیان

Share |
سرخی : f 1444    عورتوں کا باہم ایک دوسرے سے پردہ !
مقام : امریکہ,
نام : عائشہ بتول
سوال:    

عورتوں کے لئے جس طرح مرد سے پردہ کرنے کا حکم ہے کیا اسی طرح عورتوں سے بھی پردہ کرنے کا حکم ہے ؟ اور کس حد تک ایک عورت دوسری عورت کے بدن کو دیکھ سکتی ہے ؟ ڈاکٹر اور دائی سے پردے کا کیا حکم ہے ؟


............................................................................
جواب:    

ایک مسلمان مرد دوسرے مرد کے جن اعضاء کو نہیں دیکھ سکتا اسی طرح مسلمان عورت بھی دوسری عورت کے ان اعضاء کو نہیں دیکھ سکتی ۔ مثلاً کوئی شخص دوسرے مرد کے ناف سے زانو تک کے حصہ کو نہیں دیکھ سکتا اسی طرح عورت بھی دوسری عورت کے ناف سے زانو تک کے حصے کو نہیں دیکھ سکتی ۔ شریف ونیک عورت کے لئے حکم ہے کہ وہ بدکار عورتوں کے روبرو نہ آئے ۔ اور ان کے سامنے اپنی چادر وغیرہ نہ نکالے کیونکہ یہ غیر مردوں کے سامنے اس کا تذکرہ کرے گی ۔ البتہ دایہ اور ڈاکٹر کے لئے بقدر ضرورت دیکھنے کی اجازت ہے ۔ درمختار جلد5 ص262 (کتاب الحظر والاباحۃ ) میں ہے : (وتنظر المرأة المسلمة من المرأة كالرجل من الرجل) وقيل كالرجل لمحرمه والاول أصح .سراج ، (وكذا) تنظر المرأة (من الرجل) كنظر الرجل للرجل (إن أمنت شهوتها فلو لم تأمن أو خافت أو شكت حرم استحسانا كالرجل هو الصحيح في الفصلين. تاترخانية معزيا للمضمرات (والذمية كالرجل الاجنبي في الاصح فلا تنظر إلى بدن المسلمة) مجتبى. رد المحتار میں ہے : لا يحل للمسلمة أن تنكشف بين يدي يهودية أو نصرانية أو مشركة إلا أن تكون أمة لها كما في السراج ، ونصاب الاحتساب ۔ اور در مختار میں ہے : (...ينظر) الطبيب (إلى موضع مرضها بقدر الضرورة) إذ الضرورات تتقدر بقدرها ، وكذا نظر قابلة . واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com