***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > وراثت کا بیان

Share |
سرخی : f 1445    بھائیوں کی جانب سے بہنوں پر خرچ اور زندگی میں تقسیم
مقام : ,
نام : محسن
سوال:    

السلام علیکم! میرے والد کا گھر میری والدہ کے نام پر ہے، ہم دو بھائی اور چار بہنیں ہیں، ہم بھائی اپنی رات دن کی کمائی سے بہنوں کی شادیاں کرکے ان کی زچگیاں بھی کروائے ہیں، اب ہمارے پاس کچھ نہیں ہے، اب بہنیں اپنے حصہ کی بات کررہی ہیں، شرعی حساب سے کس کو کتنا حصہ ملے گا؟ برائے مہربانی جواب ارسال کریں-


............................................................................
جواب:    

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ! بھائیوں نے بہنوں کے نکاح کے موقع پر اور دیگر اوقات جو کچھ اپنی جانب سے خرچ کیا وہ بھائیوں کا بہنوں کے حق میں حسن سلوک ہے، ہاں اگر خرچ کے وقت بھائیوں نے یہ کہا تھا کہ ہم بطور قرض دے رہے ہیں، تو قرض جسے دیا گیا تھا اس سے واپس طلب کیا جاسکتا ہے، آپ کے والد نے اگر اپنا گھر والدہ کو ہبہ کرکے ان کے نام کردیا اور انہیں قبضہ دے دیا تو والدہ اس گھر کی مالکہ ہوئیں، اگر والدہ بقید حیات ہیں توتقسیم کرنا ، ضروری نہیں ۔اُنہیں مکمل اختیار ہے، چاہیں تو تقسیم کریں چاہیں نہ کریں، زندگی میں تقسیم کی صورت میں تمام اولاد کے درمیان خواہ لڑکا ہو یا لڑکی برابر حصہ دینا چاہئے، اگر کوئی بیٹا یا بیٹی ضرورتمند ہے تو اسے دوسروں کی بہ نسبت زیادہ حصہ دیا جا سکتاہے ، اگر آپ انتقال کے بعد کی تقسیم کے بارے میں دریافت کررہے ہیں تو وضاحت کے ساتھ بتلائیے کہ کس کا انتقال ہوا ہے، ورثہ میں کون موجود ہیں، ان شاء اللہ تعالی جواب دیا جائےگا- واللہ اعلم بالصواب سید ضیاء الدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com حیدرآباد ، دکن ،انڈیا 

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com