***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > پانی کے مسائل

Share |
سرخی : f 1454    غسل کے وقت پانی کے قطرات برتن میں گر جائیں توکیا پانی پاک رہے گا؟
مقام : سدی پیٹ ،انڈیا,
نام : محمد عبدالحمید
سوال:    

عموماً غسل کرتے وقت پانی کے چھینٹیں برتن میں گرتے ہیں ‘کیا ایسے پانی سے وضو یا غسل کرنا درست ہے یا نہیں ؟


............................................................................
جواب:    

جنبی کے غسل کے پانی کے چھینٹیں دراصل ماء مستعمل ہے اور ماء مستعمل (استعمال شدہ پانی )کاحکم یہ ہے کہ وہ طاہر (پاک) ہے مطہر (پاک کرنے والا ) نہیں اس لئے صرف ماء مستعمل سے وضو و غسل درست نہ ہوگا ‘ اگر ماء مستعمل ماء مطلق ( خالص پانی ) میں مل جائے تو اس سے وضو و غسل جائز ہے جب کہ ماء مستعمل ماء مطلق سے زائد نہ ہو ۔ ظاہر ہے کہ غسل کے پانی کے چھینٹیں جو قطرات کی شکل میں برتن میں گرتے ہیں وہ کم ہوں گے اور برتن کا پانی زیادہ ہوگا بنا بریں برتن کے پانی سے وضو اور غسل صحیح ہے کیونکہ پانی کے جو قطرات برتن میں گرے ہیں وہ پاک ہیں پاک کرنے والے نہیں ۔ اگر غسل کرنے والے کے بدن پر نجاست حقیقیہ لگی ہے اور وہ اسکو زائل نہیں کیا اور غسل کے وقت پانی کے قطرات برتن میں گرجائیں تو برتن کا پانی ناپاک ہوگا اور اس پانی سے وضو اور غسل درست نہ ہوگا ۔ در مختار ج 1 ص 134 میں ہے ’’ فان المطلق اکثر من النصف جاز التطھیر بالکل والا لا ‘‘ کیونکہ ماء مطلق اگر آدھے سے زیادہ ہے تو کل پانی سے پاکی حاصل کرنا جائز ہے ورنہ جائز نہیں اور در مختار میں مذکورہ صفحہ پرہے ’’ الماء القلیل انما یخرج عن کونہ مطھراً باختلاط غیر المطھر بہ اذا کان غیرالمطھر غالباً ۔ ۔ ۔ ولا شک انہ اقل من غیر المستعمل فکیف یخرج بہ من این یکون مطھراً ‘‘ ماء مستعمل تھوڑے ماء مطلق سے مل جائے تو پاک کرنے کی صفت سے نکل جاتا ہے جبکہ ماء مستعمل زیادہ ہو ۔ ۔ ۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ استعمال شدہ پانی غیر مستعمل پانی سے کم ہے تو وہ پاک کرنے کی صفت سے نہیں نکلے گا ۔ واللہ اعلم بالصواب– سیدضیاءالدین عفی عنہ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com