***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حلال و حرام کا بیان

Share |
سرخی : f 1457    انسانی بالوں کی فروختگی کا حکم
مقام : لندن,
نام : فہیم اللہ
سوال:    

میں لندن میں رہتا ہوں اور یہاں کاسمیٹک (cosmetic products) کا کاروبار شروع کرنا چاہتا ہوں جس میں انسانی اور مصنوعی بالوں کی تجارت بھی ہوتی ہے‘ کیا یہ کاروبار کیا جاسکتاہے؟ ازراہ کرم مجھے جواب عنایت فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

انسان کے بالوں کی خرید وفروخت اس کی اہانت وبے توقیری کے مترادف ہے جب کہ تمام مخلوقات میں انسان کو اللہ تعالی نے عظمت و عزت کا تاج پہناکر محترم ومکرم قرار دیاہے۔ ارشاد باری تعالی ہے : وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ آَدَمَ۔ ترجمہ :اوریقینا ہم نے اولاد آدم کو بزرگی عطافرمائی ہے۔ (الاسراء۔70) علامہ علاء الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1088ھ )اور علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ(متوفی 1252ھ)نے اس امرکی صراحت کی ہے کہ انسان کی عظمت وشرافت کی وجہ سے شریعت اسلامیہ نے انسانی بالوں کی خرید وفروخت ناجائز رکھی ہے، البتہ مصنوعی بالوں کی خرید وفروخت جائز ہے۔ لہذا آپ اپنے پاس جو کاسمیٹک پروڈکس (cosmetic products) فروخت کے لئے رکھیں گے ان میں انسانی بالوں سے بننے والے ایٹمس شامل نہ کریں۔ ہدایہ ،ج3،کتاب البیوع، ص55میں ہے۔:ولایجوز بیع شعر الخنزیر لانہ نجس العین ۔ ۔ ۔ ولا یجوزبیع شعور الانسان ولا الانتفاع بہ لان الادمی مکرم لامبتذل ۔ ۔ ۔ ولا باس ببیع عظام المیتۃ وعصبھا وصوفھا وقرنھا وشعرھا ووبرھا والانتفاع بذلک کلہ لانھا طاھرۃ لایحلھا الموت لعدم الحیوۃ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com