***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عقائد کا بیان > متفرق مسائل

Share |
سرخی : f 1492    یزید کو ’’رضی اللہ عنہ ‘‘اور’’امیرالمؤمنین‘‘کہنےکاحکم ؟
مقام : سعودیہ عربیہ,
نام : محمد الیاس
سوال:    

کیا فرماتے ہیں علماء دین اس بارے میں کہ یزید کو رضی اللہ عنہ اورامیر المؤمنین کہنا کہاں تک درست ہے،قائل اور اس قول کے بارے میں شرعی حکم کیاہے؟


............................................................................
جواب:    

حضرت نبی اکرم مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت تک واقع ہونے والے تمام فتنو ں کی تفصیلات بیان فرمائیں،ازاں جملہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یزید کے فتنہ سے بھی امت کو آگاہ فرمایااس سلسلہ میں ایک سے زائد احادیث شریفہ وارد ہیں بعض روایات میں اشارۃًذکر ہے اوربعض میں صراحۃً ،کہ امت میں سب سے پہلے فساد برپاکرنے والا ،سنتوں کو پامال کرنے والا،دین میں رخنہ وشگاف ڈالنے والا،بنی امیہ کا ایک یزیدنامی شخص ہوگا۔تیسری صدی ہجری کے جلیل القدر محدث امام ابویعلی رحمۃاللہ علیہ(مولود211ھ متوفی307 ھ)نے اپنی مسندمیں سند کے ساتھ حدیث شریف روایت کی ہے عن ابی عبيدة قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم لا يزال امرامتی قائما بالقسط حتی يکون اول من يثلمه رجل من بنی اميةيقال له يزيد۔ ترجمہ:سید نا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:میری امت کا معاملہ عدل کے ساتھ قائم رہے گا یہاں تک کہ سب سے پہلے اس میں رخنہ ڈالنے والا بنی امیہ کاایک شخص ہوگا جس کویزید کہا جائے گا۔(مسندابو یعلی ،مسند ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ) ونیز مشہور مفسرابو الفداء اسمعیل بن عمر، معروف بہ ابن کثیر (مولود 700ھ متوفی 774ھ) نے اپنی کتاب البدایۃ والنہایۃج6ص256میں اس حدیث پاک کونقل کیا ہے۔اس حدیث شریف کو محدث کبیرامام شہاب الدین احمدبن حجر مکی ہیتمی رحمۃاللہ علیہ نے بھی الصواعق المحرقہ ص132 میں نقل فرما یاہے۔آپ نے اس سلسلہ کی مزید ایک روایت الصواعق المحرقہ ص132 میں ذکر فرمائی ہے عن ابی الدرداء رضی الله عنه قال سمعت النبی صلی الله عليه وسلم يقول اول من يبدل سنتی رجل من بنی اميةيقال له يزيد۔ ترجمہ:سیدناابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوفر ما تے ہوئے سنا:سب سے پہلے جومیری سنت کو بدلے گاوہ بنو امیہ کا ایک شخص ہوگا جس کو یزید کہا جائیگا۔ اس حد یث شریف کوعلامہ ابن کثیرنے بھی حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی روا یت سے نقل کیا۔ صحیح شریف ج2ص1046میں حدیث پاک ہے حدثناعمروبن يحيی بن سعيد بن عمروبن سعيد قال اخبرنی جدی قال کنت جالسا مع ابی هريرة فی مسجد النبی صلی الله عليه وسلم بالمدينة ومعنا مروان قال ابوهريرة سمعت الصادق المصدوق صلی الله عليه وسلم يقول هلکة امتی علی ايدی غلمة من قريش فقال مروان لعنة الله عليهم غلمة فقال ابوهريرة لوشئت ان اقول بنی فلان وبنی فلان لفعلت فکنت اخرج مع جدی الی بنی مروان حين ملکوابالشام فاذاراٰهم غلما نا احداثا قال لنا عسیٰ هؤلاء ان يکونوامنهم قلنا انت اعلم۔ ترجمہ: عمروبن یحی بن سعید بن عمروبن سعیداپنے دادا عمروبن سعیدرضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا:میں مدینہ طیبہ میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہواتھا اورمروان بھی ہمارے ساتھ تھا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں نے حضرت صادق مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کوارشادفرماتے ہوئے سنا:میری امت کی ہلاکت قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھوں سے ہوگی۔مروان نے کہااللہ تعالی ایسے لڑکوں پر لعنت کرے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں کہنا چاہوں کہ وہ بنی فلاں اور بنی فلاں ہیں توکہہ سکتا ہوں،حضرت عمروبن یحی کہتے ہیں میں اپنے داداکے ساتھ بنی مروان کے پاس گیا جب کہ وہ ملک شام کے حکمران تھے ،پس انہیں کم عمرلڑکے پائے تو ہم سے فرمایا عنقریب یہ لڑکے اُن ہی میں سے ہوں گے ،ہم نے کہاآپ بہتر جانتے ہیں ۔ شارح بخاری صاحب فتح الباری حافظ احمدبن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ (مولود 773 ھ متوفی852 ھ) مذکورہ حدیث پاک کی شرح میں مصنف ابن ابی شیبہ کے حوالہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت نقل کرتے ہوئے رقمطراز ہیں : وفی رواية ابن ابي شيبة ان اباهريرة کان يمشی فی السوق ويقول اللهم لاتدرکنی سنة ستين ولاامارة الصبيان وفي هذا اشارة الی ان اول الاغيلمة کان فی سنة ستين وهوکذلک فان يزيد بن معاوية استخلف فيها وبقی الی سنة اربع وستين فمات - مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بازار میں چلتے ہوئے بھی یہ دعاکرتے اے اللہ ! سن ساٹھ ہجری او رلڑکوں کی حکمرانی مجھ تک نہ پہنچے‘‘ اس روایت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پہلالڑکا جو حکمران بنے گا وہ 60ھ میں ہوگاچنانچہ ایسا ہی ہواکہ یزیدبن معاویہ اسی سال تخت حکومت پر مسلط ہوا او ر 64ھ تک رہ کر ہلاک ہوا ۔ سید الشہداء امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے واقعۂ جانکاہ کی وجہ سے اہل مدینہ یزید کے سخت مخالف ہوگئے اور صحابی ابن صحابی حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہما کے دست مبارک پر بیعت کرلئے تو یزیدپلید نے ایک فوج مدینہ طیبہ پرچڑھائی کیلئے روانہ کی جس نے اہل مدینہ پر حملہ کیا اور اس کے تقدس کو پا مال کیا اس موقع پر حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہما نے اہل مدینہ سے روح پرور خطاب کیااور اس میں یزید کی خلافِ اسلام عادات واطوار کا ذکر کیا جیساکہ محدث وقت مؤرخ اسلام محمدبن سعدرحمۃ اللہ علیہ (مولود168ھ ۔متوفی230 ھ)کی طبقات کبری ج 5ص66میں اس کی تفصیل موجودہے اجمعواعلی عبدالله بن حنظلةفاسندواامرهم اليه فبايعهم علی الموت وقال ياقوم اتقوا الله وحده لاشريک له فوالله ماخرجنا علی يزيد حتی خفنا ان نرمی بالحجارة من السماء ان رجلا ينکح الامهات والبنات والاخوات ويشرب الخمر ويدع الصلوة والله لو لم يکن معی احد من الناس لابليت لله فيه بلاء حسنا۔ حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہما نے اہل مدینہ سے تادم زیست مقابلہ کرنے کی بیعت لی او رفرمایا:اے میری قوم ! اللہ وحدہ سے ڈرو جس کا کوئی شریک نہیں ،اللہ کی قسم ! ہم یزید کے خلاف اس وقت اُٹھ کھڑے ہوئے جبکہ ہمیں خوف ہوا کہ کہیں ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش نہ ہوجائے ،وہ ایسا شخص ہے جو ماؤں، بیٹیوں اور بہنوں سے نکاح جائزقرار دیتا ہے ، شراب نوشی کرتا ہے ،نماز چھوڑتا ہے، اللہ کی قسم !اگر لوگوں میں سے کوئی میرے ساتھ نہ ہوتب بھی میں اللہ کی خاطر اس معاملہ میں شجاعت وبہادری کے جوہر دکھاؤں گا۔ علامہ ابن اثیر (مولود 555 ھ متوفی630 ھ )کی تاریخ کامل51ہجری کے بیان میں ہے وقال الحسن البصری ۔ ۔ ۔ سکير اخميرا يلبس الحرير ويضرب بالطنابير : حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ یزید کے بارے میں فرماتے ہیں وہ انتہادرجہ کا نشہ باز، شراب نوشی کا عادی تھا ریشم پہنتا اور طنبور ے بجاتا۔ علامہ ابن کثیر(مولود 700 ھ متوفی 774 ھ) نے البدایۃ والنہا یۃ ج6ص262میں لکھاہے: وکان سبب وقعة الحرةان وفدامن اهل المدينة قدمواعلی يزيد بن معاوية بدمشق ۔ ۔ ۔ فلمار جعوا ذکروا لاهليهم عن يزيد ماکان يقع منه القبائح فی شربه الخمرو مايتبع ذلک من الفواحش التی من اکبر ها ترک الصلوة عن وقتها بسبب السکر فاجتمعوا علی خلعه فخلعوه عند المنبرالنبوی فلما بلغه ذلک بعث اليهم سرية يقدمها رجل يقال له مسلم بن عقبة وانما يسميه السلف مسرف بن عقبة فلما وردالمدينة استباحها ثلاثة ايام فقتل فی غضون هذه الايام بشرا کثيرا ۔ ترجمہ:واقعۂ حرہ کی وجہ یہ ہوئی کہ اہل مدینہ کا وفد دمشق میں یزید کے پاس گیا ،جب وفد واپس ہواتواس نے اپنے گھر والوں سے یزید کی شراب نوشی اور دیگر بری عادتوں اور مذموم خصلتوں کا ذکر کیا جن میں سب سے مذموم ترین عادت یہ ہیکہ وہ نشہ کی وجہ سے نماز کو چھوڑدیتا تھا ،اس وجہ سے اہل مدینہ یزید کی بیعت توڑنے پر متفق ہوگئے او رانہوں نے منبر نبوی علی صاحبہ الصلوۃ والسلام کے پاس یزید کی اطاعت نہ کرنے کا اعلان کیا ،جب یہ بات یزید کو معلوم ہوئی تو اس نے مدینہ طیبہ کی جانب ایک لشکر روانہ کیا جس کا امیر ایک شخص تھا جس کو مسلم بن عقبہ کہا جاتا ہے سلف صالحین نے اس کو مُسرِف بن عقبہ کہا ہے جب وہ مدینہ طیبہ میں داخل ہوا تو لشکر کے لئے تین دن تک اہل مدینہ کے جان و مال سب کچھ مباح قرار دیاچنانچہ اس نے ان تین روز کے دوران سینکڑوں حضرات کوشہید کروایا ۔ امام بیقہی(مولود384 ھ متوفی458 ھ) کی دلائل النبوۃ میں روایت ہے عن مغيرة قال أنهب مسرف بن عقبة المدينةثلاثة ايام فزعم المغيرة أنه افتض فيها الف عذراء۔ ترجمہ: حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں مسرف بن عقبہ نے مدینہ ٔطیبہ میں تین دن تک لوٹ مار کی اورایک ہزارمقدس و پاکبازان بیاہی دخترانِ اسلام کی عصمت دری کی گئی۔العیاذ باللہ ! جبکہ اہل مدینہ کو خوف زدہ کرنے والے کیلئے حدیث شریف میں سخت وعید آئی ہے مسند احمد، مسند المدنيين میں حدیث مبارک ہے عن السائب بن خلاد ان رسول الله صلی الله عليه وسلم قال من اخاف اهل المدينة ظلماًاخافه الله وعليه لعنة الله والملائکة والناس اجمعين لايقبل الله منه يوم القيامةصرفاولاعدلا ۔ ترجمہ : سیدنا سائب بن خلادرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے اہل مدینہ کو ظلم کرتے ہوئے خوف زدہ کیا اللہ تعالی اس کوخوف زدہ کرے گا او راس پر اللہ کی، فرشتوں کی اورتمام لوگوں کی لعنت ہے ، اللہ تعالی اس سے قیامت کے دن کوئی فرض یا نفل عمل قبول نہیں فرمائے گا - (حدیث نمبر :15962)اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ اس شخص کاکیا انجام ہوگا جو اہل مدینہ کو صرف خوفزدہ وہراساں ہی نہیں کیا بلکہ مدینہ طیبہ میں خونریزی قتل وغارتگری کیا اور ساری فوج کے لئے وحشیانہ اعمال کی اجازت دیدی۔ فن عقیدہ میں پڑھائی جانے والی درس نظامی کی مشہور کتا ب شرح عقائد نسفی ص117 میں علامہ سعد الدین تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا ہے : وبعضهم اطلق اللعن عليه لماانه کفرحين امر بقتل الحسين واتفقواعلی جوازاللعن علی من قتله اوا مربه اواجازبه ورضی به ،والحق ان رضايزيد بقتل الحسين واستبشاره بذلک واهانة اهل بيت النبی صلی الله عليه وسلم مماتواترمعناه وان کان تفاصيله احاداً فنحن لانتوقف فی شانه بل فی ايمانه لعنة الله عليه وعلی انصاره واعوانه۔ ترجمہ: بعض ائمہ نے امام حسین رضی اللہ عنہ کوشہیدکرنے کاحکم دینے کی وجہ سے مرتکب کفر قرار دیکر یزیدپر لعنت کو جائز رکھاہے،علماء امت اس شخص پر لعنت کرنے کے بالاتفاق قائل ہیں جس نے امام حسین رضی اللہ عنہ کوشہیدکیا یا شہید کرنے کاحکم دیا یااسے جائزسمجھااوراس پر خوش ہوا،حق یہ ہیکہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر یزید کا راضی ہونا اس سے خوش ہونااوراہل بیت کرام کی توہین کرناان روایت سے ثابت ہے جو معنوی طور پر متواترکے درجہ میں ہیں اگرچہ اسکی تفصیلات خبرواحدسے ثابت ہیں چنانچہ ہم یزید کے بارے میں توقف نہیں کرسکتے بلکہ اس کے ایمان کے بارے میں توقف کریں گے اس پر اور اسکے اعوان ومدگاروں پر اللہ کی لعنت ہو۔ حضرت شیخ الاسلام عارف باللہ امام محمد انوار اللہ فاروقی رحمۃاللہ علیہ بانی جامعہ نظامیہ یزید پلیدکے بارے میں اپنی کتاب مقاصد الاسلام حصہ پنجم ص 50میں تحریر فرماتے ہیں ’’ معلوم نہیں ملعون کس قعرمذلت میں پڑا ہو ا ہے او ر اس عالم میں اس پر کیا کیا گزررہی ہے ؟ ‘‘ رضی اللہ عنہ ‘‘ کے کلمات اللہ تعالی کی رضا وخوشنودی کے بیان و اظہار کے لئے ہیں جو تعظیم وتکریم کے محل میں تعریف وتوصیف کی غرض سے ذکرکئے جاتے ہیں اور’’رضی اللہ عنہ ‘‘کے کلمات بطور خاص صحابہ کرام کیلئے ونیزان نفوس قدسیہ کیلئے جن کے قلوب خشیت ربانی اور خوف الہی سے معمور ہوں استعمال کئے جاتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشادہے :رضی اللہ عنہم ورضواعنہ ذلک لمن خشی ربہ۔ترجمہ: اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہیں،یہ ان کیلئے ہے جواپنے رب سے ڈرتے ہوں۔(سورة البينة۔8) مذکورہ احادیث شریفہ او رائمہ اعلام کی تصریحات سے یہ امرعیاں وآشکار ہوا کہ یزید شقی و بدبخت ، فاسق وفاجر ، فتنہ پردازوبدعتی ،سنت کو بدل نے والا، دین میں رخنہ ڈالنے والا،حرمین شریفین کے تقدس کوپامال کرنے والا،اہل بیت نبوۃ کی بے حرمتی کرنے ولاہے۔ایسے شخص کیلئے رضی اللہ عنہ ا ورامیرالمؤمین کے الفاظ استعمال کرنا در اصل اس کو عزت واحترام دیناہے اور یہ اسلام کو ڈھانے میں مدد کرنے کے مترادف ہے جوموجب غضب وہلاکت ، محرومی وشقاوت اورگمراہی وضلالت ہے ، رسول اکر م صلی اللہ علیہ وسلم نے فاسق وفاجر کی تعظیم کرنے کو اسلام ڈھانے میں مدد کرنا قرار دیاہے۔ عن عائشة قالت قال رسول الله صلی عليه وسلم من وقرصاحب بدعة فقد اعان علی هدم الاسلام۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا جس نے کسی بدعتی کی تعظیم کی یقینا اس نے اسلام کو مہندم کرنے میں مدد کیا ۔(معجم اوسط للطبرانی(مولود260ھ متوفی360ھ باب المیم من اسمہ محمد ،حدیث نمبر:6263) امام بیہقی(مولود384ھ متوفی458 ھ) کی شعب الایمان میں حدیث پاک ہے عن انس قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم اذامدح الفاسق غضب الرب واهتزله العرش۔ ترجمہ: سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب فاسق کی تعریف کی جاتی ہے تو پر وردگار کا جلال ظاہر ہوتا ہے او راس کی وجہ عرش لرزتاہے۔ (الرابع والثلاثون من شعب الایمان وھوباب فی حفظ اللسان (حدیث نمبر 4692) یزیدکی نسبت امیر المومنین کہنے والے کو بنی امیہ کے خلیفہ عادل حضرت عمر بن عبدالعزیزرحمۃ اللہ علیہ نے مستحق تعزیر قراردیاہے جیسا کہ فن رجال کی مستند کتاب تہذیب التہذیب ج11 حرف الیاء ص 316میں حافظ ابن حجرعسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریرفرمایا: ثنانوفل بن ابی عقرب ثقة قال کنت عندعمر بن عبدالعزيز فذکر رجل يزيد بن معاوية فقال قال اميرالمؤمنين يزيد فقال عمرتقول اميرالمؤمنين يزيد وامربه فضرب عشرين سوطا - نوفل بن ابوعقرب فرماتے ہیں ، میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تھا ایک شخص نے یزید کا ذکر تے ہوئے کہا کہ امیرالمؤمنین یزید نے یوں کہا ہے ،حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تو یزید کوامیرالمؤمنین کہتا ہے پھر اس شخص کو کوڑے لگوانے کا حکم فرمایا چنانچہ اسے بیس کوڑے لگوائے گئے ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com