***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 15    کپڑوں کی پاکی سے متعلق ایک مسئلہ
مقام : حیدرآباد ،انڈیا,
نام : وقار خالد
سوال:    

اگرکپڑے پر نجاست کا ایسادھبہ ہو جو دھونے کے بعد صاف نہیں ہوتا ہوتوکیا ایسے کپڑوں میں نماز پڑھنا درست ہے


............................................................................
جواب:    

:کپڑے پر ایسی گندگی لگی کہ اس کا نشان اور دھبہ بآسانی زائل ہوتا ہے تواس دھبہ کے اثر کو دور کرنا ضروی ہے جب تک نجاست کا اثر دورنہ ہوکپڑا پاک نہیں ہوتا اگر پانی کے علاوہ کوئی اورچیز استعمال کیئے بغیردھبہ دور کرنا ممکن نہ ہوتو اس وقت اس اثرودھبہ کو دورکرنا ضروری نہیں، دھبہ کے ہوتے ہوئے نماز پڑھنا بلا کراہت جائز ہے ،بدائع الصنائع ج 1 ،کتاب الطهارة باب شرائط التطهير, ص249, میں ہے : وَلَوْ زَالَتْ الْعَيْنُ وَبَقِيَ الْأَثَرُ ، فَإِنْ كَانَ مِمَّا يَزُولُ أَثَرُهُ لَا يُحْكَمُ بِطَهَارَتِهِ ، مَا لَمْ يَزُلْ الْأَثَرُ ؛ لِأَنَّ الْأَثَرَ لَوْنُ عَيْنِهِ ، لَا لَوْنُ الثَّوْبِ ، فَبَقَاؤُهُ يَدُلُّ عَلَى بَقَاءِ عَيْنِهِ وَإِنْ كَانَتْ النَّجَاسَةُ مِمَّا لَا يَزُولُ أَثَرُهُ ، لَا يَضُرُّ بَقَاءُ أَثَرِهِ عِنْدَنَا – ترجمہ :اگر عین نجاست دورہوجائے اور دھبہ باقی رہے اور نجاست ایسی ہوجس کا دھبہ دورہوجاتاہے تو اس کو اس وقت تک پاک نہیں کہیں گے جب تک دھبہ زائل نہ ہوکیونکہ وہ دھبہ نجاست کے وجود کوبتاتا ہے اگر نجاست ایسی ہو جس کا اثر زائل نہیں ہوتا تو دھبہ باقی رہ جانے کی صورت میں کوئی حرج نہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com