***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان > نفقہ کے مسائل

Share |
سرخی : f 1503    بیوی کےنفقہ کی شرعی مقدار
مقام : ,
نام : غیر مذکور
سوال:    

میرے دوست کی ایک لڑکی کی حال میں شادی ہوئی ہے، لڑکا نیویانک میں مقیم ہے، اس کی ماہانہ آمدنی ہندوستانی کرنسی میں ایک لاکھ سے زائد ہے، لڑکی سسرال میں ساس اور خسر کے ساتھ رہتی ہے، لڑکا گھر کے تمام اخرجات کھانے، پینے اور لباس وغیرہ کے علارہ خاص بیوی کے لئے ہر ماہ دو ہزار روپئے روانہ کرتا ہے لیکن لڑکی کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی سیلری مین سے بیوی کے لئے صرف دوہزار روپئے بہت کم ہیں،مفتی صاحب قبلہ! برائے مہربانی یہ بیان فرمائیں کہ شریعت نے بیوی کے اخرجات کے لئے شوہر کی آمدنی سے کتنا حصہ مقرر کیا ہے؟ بیوی شوہر کی تنخواہ میں کتنے فیصد کی حقدار ہوتی ہے؟


............................................................................
جواب:    

شریعت اسلامیہ نے شوہر کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ بیوی کےلئے رہائش، خوراک وپوشاک اور دیگر ضروریات کی تکمیل کا انتظام کرے، بیوی کے اخرجات کے لئے شوہر کی آمدنی کی کوئی شرح مقرر نہیں کی گئی،بلکہ زوجین کے مالدار و تنگدست ہونے کے اعتبار سے نفقہ مقرر کیا گیا، اگر زوجین تنگدست ہیں تو نفقہ اتنی ہی مقدار میں ہوگا جتنی رقم میں عام طور پر تنگدست لوگ گذار کر لیتے ہیں اور اگر زوجین مالدار ہوں تو نفقہ بھی اس قدر ہوگا کہ عموعا دولتمند لوگ جس قدر رقم سے ضروریات کی تکمیل کر لیتے ہیں- جیساکہ فتاوی عالمگیری ج 1،ص 547/548،میں ہے: وَإِذَا أَرَادَ الْفَرْض وَالزَّوْجُ مُوسِرٌ يَأْكُلُ الْخُبْزَ الْحِوَارِيَّ وَاللَّحْمَ الْمَشْوِيَّ ، وَالْمَرْأَةُ مُعسرَةٌ ، أَوْ عَلَى الْعَكْسِ اخْتَلَفُوا فِيهِ وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ يُعْتَبَرُ حَالُهُمَا كَذَا فِي الْفَتَاوَى الْغِيَاثِيَّةِ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى حَتَّى كَانَ لَهَا نَفَقَةُ الْيَسَارِ إنْ كَانَا مُوسِرَيْنِ ، وَنَفَقَةُ الْعسَارِ إنْ كَانَا مُعْسِرَيْنِ -( فتاوی عالمگیری ج 1،ص 547/548،كتاب الطلاق ,الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الأول في نفقة الزوجة) اسلامی قانون میں ایسی لچک اور وسعت رکھی گئی ہے کہ کسی کو تکلیف نہ ہو، اگر بیوی کے لئے شوہر کی آمدنی کا فیصد مقرر کیا جاتا تو شوہر کی تنخواہ کم ہو یا زیادہ شوہر مقررہ رقم دے کر اپنی ذمہ داری ادا کر دیتا، تنخواہ کم ہونے کی صورت میں بیوی کے لئے مقررہ فیصد کافی نہ ہوتا اور ضروریات کی تکمیل کے سلسلہ میں بیوی کو فکر لاحق ہوجاتی چناچہ شریعت اسلامیہ نے مالی ذمہ داری مرد کو دےکر عورت کی تمام ضروریات کی تکمیل کرنے کی ہدایت دے دی خواہ اس کی آمدنی کم ہو یا زیادہ،اس طرح عورت کو معاشی واقتصادی افکار سے بری اور محفوظ رکھا- آپ کے دوست کی لڑکی کے لئے جب ان کے شوہر تمام اخرجات کے علاوہ ہر ماہ دوہزار روپئے بھیج رہے ہیں تو لڑکی کو بارگاہ یزدی میں شکر گذار رہنا چاہئے- واللہ اعلم بالصواب سید ضیاء الدین عفی عنہ  شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدرابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com حیدرآباد ، دکن ،انڈیا

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com