***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حلال و حرام کا بیان

Share |
سرخی : f 1504    گودنے (tattooing)کا پیشہ اختیار کرنا
مقام : آسٹریلیا,
نام : محمدحامد
سوال:    

مفتی صاحب قبلہ ایک سوال خدمت میں بھیج رہا ہوں ،جواب ضرور عنایت فرمائیں ،آج کل یہ فیشن بہت عام ہوگیا ہے کہ سوئی سے جلد پر باریک سوراخ ڈالے جاتے ہیں اور سرمہ وغیرہ سے لکیریں بنائی جاتی ہیں وہ لکیریں بننے کے بعد جلد پر رہ جاتی ہیں ،پھر نہیں نکلتی ،اس کو انگلش میں’’tattoo‘‘کہتے ہیں ،یہ فیشن لڑکوں میں بھی ہے یہ اور لڑکیوں میں بھی، tattooہاتھ، پیر،پیٹھ اورجسم کے کسی بھی حصہ پر ڈیزائن کئے جارہے ہیں ،کوئی اپنا نام لکھواتا ہے توکوئی پھول پتے ،بیل بوٹے ،اورمختلف قسم کے ڈیزائن کروائے جاتے ہیں ،جہاں یہ فیشن عام ہورہا ہے وہیں یہ ڈیزائن بنانا(tattooing)پیشہ بن چکاہے،اور جنوبی امریکہ،شمالی امریکہ،جاپان،یورپ،نیوزلینڈ،چین اورافریقہ میں بہت پھیل رہا ہے، اس کومسلمان بھی پیشہ بنارہے ہیں ،کیا یہ ڈیزائن کروانااوراس ڈیزائننگ کو پیشہ بنانا اسلام میں درست ہے ؟


............................................................................
جواب:    

آپ نے ’’tattoo‘‘کے جس فیشن سے متعلق سوال کیا ہے اس کو اردو زبان میں گودنا اورعربی زبان میں ’’وشم‘‘ کہتے ہیں ،یہ ازروئے شریعت حرام ہے،زمانۂ قدیم میں یہ طریقہ صرف عورتوں میں تھا،حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والی اورگودوانے والی عورتوں پرلعنت فرمائی ہے جیساکہ صحیح بخاری شریف ج2ص805میں حدیث پاک ہے : حدثنا عون بن ابی جحیفۃعن ابیہ قال لعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم الواشمۃ والمستوشمۃ۔ ترجمہ: حضرت عون بن ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والی اور گودوانے والی پر لعنت فرمائی۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اس مذموم وملعون فیشن سے بچیں اور اس کو پیشہ نہ بنائیں، کوئی فیشن یا پیشہ اختیار کرنا ہو توشریعت مطہرہ کے پاکیزہ تعلیمات کی روشنی میں دیکھنا چاہئے اگر وہ شریعت کی تعلیمات کے خلاف نہ ہو تو اس کو اختیار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں،اوراگر قانون اسلام کے کسی حکم کے خلاف ہو تواس سے پرہیز کرنا لازم وضروری ہے اور اسی میں دنیا وآخرت کی کامیا بی ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com