***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عقائد کا بیان > نبوت و رسالت کا بیان

Share |
سرخی : f 1511    بارہ ربیع الاول ‘ولادت مبارک
مقام : نرمل ، انڈیا,
نام : محمد کاظم
سوال:    

کیاہمارے نبی حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ربیع الاول کی 12تاریخ کوہوئی؟ برائے مہربانی اس سے متعلق جواب عنایت فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہ وصحبہ وسلم کی ولادت باسعادت عام الفیل بارہ ربیع الاول دوشنبہ کے دن صبح صادق کے وقت ہوئی‘ چنانچہ علامہ محمدبن یوسف صالحی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 942؁ھ) نے سبل الہدی والرشادمیں ’’بارہ‘‘ کی روایت ذکرکی ہے اورلکھا ہے کہ مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت جابروحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے بارہ کی روایت موجودہے۔ قال ابن إسحاق رحمہ اللہ تعالی: لاثنتی عشرۃ لیلۃ (خلت) منہ ورواہ ابن أبی شیبۃ فی المصنف عن جابر وابن عباس. (سبل الہدی والرشاد،ج1،ص334) علامہ زرقانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1122؁ھ) نے شرح مواھب میں لکھاہے: (وقیل) ولد (لاثنی عشر)من ربیع الاول (وعلیہ عمل اھل مکۃ)قدیما وحدیثا(فی زیارتہم موضع مولدہ فی ہذا الوقت )ای ثانی عشر ربیع۔ ترجمہ:ولادت مبارک بارہ ربیع الاول کوہوئی اورقدیم زمانہ سے اور فی زمانہ اہل مکہ کا معمول ہے کہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کوہی مقام ولادت شریف کی زیارت کرتے ہیں۔ (شرح الزرقانی علی المواھب، ج1،ص248) علامہ ابن کثیرلکھتے ہیں: عن جابر وابن عباس أنہما قالا ولد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام الفیل یوم الاثنین الثانی عشر من شہر ربیع الاول ۔ ۔ ۔ وہذا ہو المشہور عند الجمہور واللہ أعلم. ترجمہ حضرت جابراورحضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے،انہوں نے فرمایا:حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت عام الفیل روزدوشنبہ ‘بارہ ربیع الاول کوہوئی اورجمہورعلماء کے نزدیک یہی مشہورہے ،حقیقت حال کا علم اللہ کے پاس ہے ،(سیرۃ ابن کثیر،ج1ص199) واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com