***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عقائد کا بیان > نبوت و رسالت کا بیان

Share |
سرخی : f 1518    حضرت عیسی علیہ السلام شریعت محمدی پر عمل کریں گے
مقام : india,
نام : zameer
سوال:    

ایک عیسائی خاتون کہتی ہے کہ وہ عیسی علیہ السلام سے بات کرتی ہے ، اور وہ کسی کے گھر میں ہونے والے معاملہ پہلے سے بتادیتی ہے اور کہتی ہے کہ اُسے عیسی علیہ السلام نے بتلایا ،لیکن میں نے سنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب آئینگے تو آخری نبی کی پیروی کریں گے ، کیا یہ درست ہے ؟ اور یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ بھی کوئی بنی اپنی امت سے بات کرسکتے ہیں ؟


............................................................................
جواب:    

سابقہ انبیاء کرام اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ اقدس پاتے یا بعد کے زمانہ کے افراد میں ہوتے تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع وپیروی کرتے جیساکہ حضرت موسی علیہ الصلوة والسلام کے بارے میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے ؛ والذی نفسی بیدہ لوکان موسی حیا ماوسعہ الا ان یتبعنی ۔ ترجمہ ؛ اس ذات کی قسم جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے ، اگر موسی ہوتے تو اُن کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا کہ میری پیروی کردیں ۔ ﴿مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب الحدیث بالکراریس ، حدیث نمبر؛ 46421﴾ حضرت عیسی علیہ الصلوة والسلام جب قیامت کے قریب زمین پر اُتریں گے تو شریعت محمدی علی صاحبھا الصلوٰة والسلام پر عمل کریں گے چنانچہ صحیح مسلم میں حدیث پاک ہے ؛ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم « وَاللَّهِ لَيَنْزِلَنَّ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَادِلاً فَلَيَكْسِرَنَّ الصَّلِيبَ وَلَيَقْتُلَنَّ الْخِنْزِيرَ وَلَيَضَعَنَّ الْجِزْيَةَ وَلَتُتْرَكَنَّ الْقِلاَصُ فَلاَ يُسْعَى عَلَيْهَا وَلَتَذْهَبَنَّ الشَّحْنَاءُ وَالتَّبَاغُضُ وَالتَّحَاسُدُ وَلَيَدْعُوَنَّ إِلَى الْمَالِ فَلاَ يَقْبَلُهُ أَحَدٌ ».ترجمہ ؛ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اُنہوں نے فرمایاحضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛ اللہ کی قسم !ضرورعیسی بن مریم شریعت محمدی صاحبھا الصلوة والسلام کے مطابق فیصلہ کرنے والے ،عدل قائم کرنے والے بن کر نازل ہوں گے تو وہ ضرور صلیب توڑیں گے ، خنزیرکو قتل کریں گے ، جزیہ موقوف کردیں گے ، اونٹوں کو کھلاچھوڑدیا جائے گا تو اُن سے کام نہیں لیاجائے گا اور ضرورلوگوں کے قلوب سے کینہ، آپسی بغض وباہمی حسد نکل جائے گا ، مال لینے کے لئے بلایا جائے گا تو کوئی اُسے قبول نہیں کرے گا ۔ ﴿صحیح مسلم شریف ، کتاب الایمان ، باب نزول عیسی ابن مریم حاکما بشریعة نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، حدیث نمبر؛ 408﴾ سوال میں مذکور جوخاتون حضرت عیسی علیہ السلام سے گفتگوکرنے کا دعوی کرتی ہے ، کسی کے گھر میں واقع ہونے والے امور کی پہلے سے خبر دیتی ہے اور کہتی ہے کہ اُسے عیسی علیہ السلام نے بتلایا ، یہ شعبدہ بازی ہے ، اس خاتون کو حضرت عیسی علیہ السلام کی تائید حاصل نہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد قیامت تک آپ ہی کی شریعت جاری رہنے والی ہے ، اس کے سواسب باطل ہے ، اگر اُسے عیسی علیہ السلام سے واقعة وابستگی ہوتی تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر ایمان لاتی اور آپ کی شریعت پر عمل پیرارہتی ، تمام انبیاء کرام علیھم السلام زندہ ہیں ، رزق پاتے ہیں جیساکہ سنن ابو داؤد شریف ، میں حدیث پاک مذکور ہے: عن اوس بن اوس قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم ان من افضل ايامکم يوم الجمعة فيه خلق آدم، و فيه النفخة و فيه الصعقة، فاکثروا علی من الصلاة فيه ، فان صلاتکم معروضة علی قالوا: يا رسول الله و کيف تعرض صلا تنا عليک و قد ارمت؟ فقال : ان الله عز و جل حرم علی الارض اجساد الانبياء۔ ترجمہ: سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے دنوں میں زیادہ فضیلت والا دن جمعہ ہے‘ اسی دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے‘ اسی دن وصال فرمائے‘ اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن لوگوں پر بے ہوشی طاری ہوگی۔ لہٰذا تم اس دن مجھ پر کثرت سے درود شریف پڑھا کرو کیونکہ تمہارا درود میری بارگاہ میں پیش کیا جاتا ہے ‘راوی کہتے ہیں صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ کی بارگاہ میں ہمارا درود کس طرح پیش کیا جائے گا جب کہ آپ وصال فرماچکے ہوں گے؟ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کرام کے اجسام کو حرام قرار دیا ہے۔ (سنن ابو داؤد شریف ج 1 ‘ کتاب الصلوٰۃ فضل یوم الجمعۃ ولیلۃ الجمعۃ ص 150-سنن نسائی، باب إكثار الصلاة على النبى -صلى الله عليه وسلم- يوم الجمعة،حدیث نمبر: 1385-سنن ابن ماجہ، باب فى فضل الجمعة، حدیث نمبر: 1138-مستدرک علی الصحیحین ، كتاب الجمعة، حدیث نمبر: 980-مسند امام احمد، حديث أوس بن أبى أوس الثقفى، حدیث نمبر: 16592-مصنف ابن ابی شیبہ،ج2،ص389-سنن کبری للنسائي، حدیث نمبر: 16592-معجم کبیر طبرانی، حدیث نمبر: 588-معجم اوسط طبرانی، حدیث نمبر: 4936-بیہقی شب الایمان، حدیث نمبر: 2894-صحیح ابن حبان، باب الأدعية، حدیث نمبر: 912-صحیح ابن خزیمۃ، جماع أبواب فضل الجمعة، حدیث نمبر: 1638-سنن صغری للبیہقی، باب فضل الجمعة، حدیث نمبر: 607-جامع الأحاديث، حدیث نمبر: 8441-الجامع الكبير للسيوطي، حدیث نمبر: 1790-سنن دارمى، حدیث نمبر: 1624-كنز العمال، حدیث نمبر: 2202-زجاجۃ المصابیح ، باب الجمعۃ ، ج:1،ص:382) واللہ اعلم بالصواب سید ضیاء الدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدرابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com حیدرآباد ، دکن ،انڈیا

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com