***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عقائد کا بیان > نبوت و رسالت کا بیان

Share |
سرخی : f 1521    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر فرحت و شادمانی
مقام : کشمیر,
نام : عبد الحکیم
سوال:    

میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا کوئی ایسی حدیث ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کسی مقام سے تشریف لائے ہوں اور اس وقت صحابہ خوشی منائے ہوں؟ اگر ایسی کوئی حدیث موجود ہو تو مہربانی فرماکر اسے حوالہ کے ساتھ بیان فرمائیں-


............................................................................
جواب:    

حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ تشریف لائے، اس موقع پر مدینہ طیبہ میں قیام پذیر صحابہ کرام کو نہایت فرحت و شادمانی حاصل ہوئی- انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آمد پر خوشی و مسرت کا اس قدر اظہار کیا کہ اہل مدینہ نے کسی موقع پر اس قدر خوشی نہیں منائی- یہ حدیث پاک مدینہ طیبہ کے رہنے والے انصاری صحابی حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری شریف، مسند امام احمد، امام نسائی کی سنن کبری، محدث ابو یعلی کی مسند اور مصنف ابن ابی شیبہ میں مذکور ہے- صحیح بخاری شریف کے الفاظ ملاحظہ ہوں: عن أبی إسحاق قال سمعت البراء بن عازب رضی اللہ عنہما قال : أول من قدم علینا مصعب بن عمیر وابن أم مکتوم وکانا یقرئان الناس فقدم بلال وسعد وعمار بن یاسر ثم قدم عمر بن الخطاب فی عشرین من أصحاب النبی صلی اللہ علیہ و سلم ثم قدم النبی صلی اللہ علیہ و سلم فما رأیت أہل المدینۃ فرحوا بشیء فرحہم برسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم حتی جعل الإماء یقلن قدم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فما قدم حتی قرأت ( سبح اسم ربک الأعلی ) . فی سور من المفصل ترجمہ: حضرت ابو اسحٰق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: انہوں نے فرمایا میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے فرمایا: ہمارے پاس سب سے پہلے آنے والے حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہما ہیں، یہ دونوں حضرات لوگوں کو تعلیم دیتے تھے، پھر حضرت بلال، حضرت سعد اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کی آمد ہوئی، پھر بیس صحابہ کرام کی جماعت کے ساتھ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تشریف لائے، پھر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ افروز ہوئے تو میں نے اہل مدینہ کو کسی چیز پر اس قدر خوشی و مسرت میں نہیں دیکھا تھا جس قدر خوشی انہوں نے حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آمد کے موقع پر منائی- یہاں تک کہ چھوٹی لڑکیاں کہنے لگیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد مبارک تک میں مفصل کی سورتوں میں " سبح اسم ربک الاعلی" پڑھ چکا تھا- (صحیح بخاری شریف، کتاب فضائل الصحابۃ، باب مقدم النبی صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث نمبر:3710مسند امام احمد، حدیث البراء بن عازب، حدیث نمبر:19072السنن الکبری للنسائی، کتاب التفسیر سورۃ الاعلی، حدیث نمبر:11666مسند ابو یعلی، مسند البراء بن عازب، حدیث نمبر:1678مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الاوائل، باب اول ما فعل و من فعلہ، حدیث نمبر:35790السنن الکبری للبیھقی، کتاب السیر، باب الاذن بالھجرۃ، حدیث نمبر:17516دلائل النبوۃ للبیھقی، باب من استقبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم و صاحبہ و اصحابہ، حدیث نمبر: 750) امام بیہقی کی سنن کبری میں مزید یہ الفاظ ہیں کہ حتی رایت الولائد والصبیان یسعون فی الطرائق یقولون جاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ترجمہ: یہاں تک کہ میں نے چھوٹی لڑکیوں اور لڑکوں کو دیکھا وہ مدینہ طیبہ کے راستوں میں یہ کہتے ہوئے دوڑے جاتے ہیں:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاچکے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاچکے- واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com