***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > غسل کے مسائل

Share |
سرخی : f 153    غسل کا طریقہ
مقام : انڈیا,
نام : محمد یٰسین‘
سوال:     مفتی صاحب! میں قرآن اور سنت کی روشنی میں غسل کا طریقہ جاننا چاہتا ہوں۔


............................................................................
جواب:     فقہاء کرام نے قرآن کریم اور حدیث شریف کی روشنی میں غسل کا طریقہ یہ بیان کیا ہے کہ ابتداء میں پاکی حاصل کرنے کی نیت کرکے دل میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کہے اور دونوں ہاتھ کلائیوں تک تین مرتبہ دھوئے‘ شرمگاہ کو دھوئے اور جسم پر جہاں نجاست لگی ہو دھولے‘ پھر وضو کرے جس طرح نماز کے لئے وضو کیا جاتا ہے‘دوران وضو کلمہ شہادت ‘ درود شریف وغیرہ نہ پڑھے‘ کلی کرے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرے‘ وضو کے بعد تمام جسم پر اس طرح پانی بہائے کہ پہلے سر پر پانی ڈالے پھر داہنے کندھے پر ‘ پھر بائیں کندھے پر ‘ جسم کو ملے‘ بعد ازاں مذکورہ ترتیب کے مطابق تمام جسم پر دو مرتبہ پانی بہائے۔
صحیح مسلم شریف میں حدیث پاک ہے:
عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنْ الْجَنَابَۃِ یَبْدَأُ فَیَغْسِلُ یَدَیْہِ ثُمَّ یُفْرِغُ بِیَمِینِہِ عَلَی شِمَالِہِ فَیَغْسِلُ فَرْجَہُ ثُمَّ یَتَوَضَّأُ وُضُوءَہُ لِلصَّلَاۃِ ثُمَّ یَأْخُذُ الْمَاءَ فَیُدْخِلُ أَصَابِعَہُ فِی أُصُولِ الشَّعْرِ حَتَّی إِذَا رَأَی أَنْ قَدْ اسْتَبْرَأَ حَفَنَ عَلَی رَأْسِہِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَی سَائِرِ جَسَدِہِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ۔

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کیا کرتے تھے تو (یوں ) شروع فرماتے کہ دونوں ہاتھوں کو (پہونچوں تک) دھولیتے پھر داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرمگاہ کو دھوتے‘ اور پھر ایسا وضو فرماتے جیسا کہ نماز کے لئے کیا جاتا ہے‘ پھر پانی لے کر پانی کو اپنی انگلیوں کے ذریعہ بالوں کی جڑوں میں پہنچاتے اور جب یقین ہوجاتا کہ تمام بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچ چکا ہے تو تین چلو اپنے سر پر ڈالتے‘ اس کے بعد تمام جسم پر پانی بہاتے اور پھر دونوں پیروں کو دھولیتے تھے (اس کی روایت مسلم نے کی ہے اور ابو داؤد طیالسی نے بھی اس کی روایت اسی طرح کرکے یہ اضافہ کیا ہے کہ جب فارغ ہوجاتے تو دونوں پیروں کو بھی دھولیتے تھے)۔ (صحیح مسلم کِتَاب الْحَیْضِ بَاب صِفَۃِ غُسْلِ الْجَنَابَۃِ)  واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com