***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان > رضاعت کے مسائل

Share |
سرخی : f 1544    حرمت رضاعت کا علم شادی کے بعد ہو تو نکاح کا حکم ؟
مقام : اچم پیٹ ، انڈیا,
نام : میر شہادت
سوال:    

آج سے چھ سال قبل میرے لڑکے فرید کا نکاح ہماری بہن کی لڑکی سعدیہ سے ہوا تھا ، شادی کے بعد اُنہیں دو لڑکے بھی ہوئے ، اب مجھے خاندان کی ایک ضعیف خاتون سے معلوم ہوا کہ میری اہلیہ کی غیرموجود گی میں میرے لڑکے فرید کو بچپن میں میری بہن نے ایک مرتبہ دودھ پلایا تھا ، میں نے اس بارے میں ایک دو ضعیف خواتین سے معلومات کی ہیں، اُنہوں نے بھی اس کی تصدیق کی ، میرا سوال یہ ہے کہ اب میں کیا کروں ؟ اُن دونوں کے لئے کیا حکم ہے ؟ اور یہ بتلائیں کہ ناواقفیت سے جو نکاح ہوا ہے کیا وہ صحیح تھا ؟ اور بچوں کے نسب کا کیا حکم رہے گا؟ ازراہ مہربانی جلد جواب دیں ! شکریہ ۔


............................................................................
جواب:    

نکاح کے سلسلہ میں رشتہ طے کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ عاقدین کے درمیان حرمت والا کوئی رشتہ نہ ہو ، سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق جب اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے کہ وہ دونوں آپس میں رضاعی بہن بھائی ہیں تو یہ نکاح شریعت مطہرہ میں ’ ’ نکاحِ فاسد ‘‘ کہلائے گا ، حرمت رضاعت معلوم نہ ہونے کی صورت میں جو اولاد ہوئی ہے وہ ثابت النسب ہوگی ، اب فرید کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی زبان سے یہ کہدے کہ میں نے سعدیہ سے تعلقِ زوجیت ختم کردیا ‘یا کہے : میں سعدیہ کو چھوڑ چکا ہوں یا سعدیہ کہہ دے کہ میں نے فرید کو چھوڑدیا پھر سعدیہ عدت گزار کر دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے ۔ 

        جیساکہ ردالمحتار میں ہے : أی تحرم امرأتہ ( قولہ : وبحرمۃ المصاہرۃ إلخ ) قال فی الذخیرۃ : ذکر محمد فی نکاح الأصل أن النکاح لا یرتفع بحرمۃ المصاہرۃ والرضاع بل یفسد حتی لو وطئہا الزوج قبل التفریق لا یجب علیہ الحد اشتبہ علیہ أو لم یشتبہ علیہ .ا ہ۔ .( قولہ : إلا بعد المتارکۃ ) أی ، وإن مضی علیہا سنون کما فی البزازیۃ ، وعبارۃ الحاوی إلا بعد تفریق القاضی أو بعد المتارکۃ .ا ہ۔ .وقد علمت أن النکاح لا یرتفع بل یفسد وقد صرحوا فی النکاح الفاسد بأن المتارکۃ لا تتحقق إلا بالقول ۔(رد المحتار، کتاب النکاح ، فروع طلق امرأتہ تطلیقتین۔ ۔ ۔ ) اور اسی کتاب میں مطلب فی نکاح الفاسدکے تحت ہے :( و ) یثبت ( لکل واحد منہما فسخہ ولو بغیر محضر عن صاحبہ دخل بہا أو لا ) فی الأصح خروجا عن المعصیۃ .

واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com