***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > اجرت(کرایہ) کا بیان

Share |
سرخی : f 1548    روم ایک دن کے لئے کرایہ پر لے کر دوگھنٹہ میں خالی کرنا!
مقام : ریاض ، بذریعہ ای میل,
نام : شرجیل خان
سوال:    

سفر کے موقع پر ہم لوگ ہوٹل میں روم لے کر ٹہرتے ہیں ، سامان کی حفاظت یا ذہنی اور جسمانی طور پر آرام کے لئے کوئی روم لینا ضروری معلوم ہوتا ہے ، ہوٹل کا انتظامیہ کم سے کم ایک دن کے لئے روم دیتا ہے ، ہم نے دودن کے لئے روم لیا لیکن اچانک پروگرام تبدیل ہونے کی وجہ سے دوسرے دن دوچار گھنٹوں میں ہی روم چھوڑنا پڑا ، لیکن ہوٹل مینیجر نے ہم سے پورے دودن کا کرایہ وصول کیا ، کیا یہ طریقہ درست ہے ؟


............................................................................
جواب:    

کسی چیز کو کرایہ پر حاصل کرنے کے بعد اُس پر قبضہ ہوجائے تو کرایہ دینا شرعًا واجب ہوتا ہے خواہ کرایہ دار اُس سے فائدہ حاصل کیا ہو یا نہ کیا ۔

ہوٹل کا روم دودن کرایہ پر لینے کے بعد اگر آپ نے دوسرے دن دوچار گھنٹوں میں ہی روم خالی کردیا تو چونکہ ہوٹل کے انتظامیہ اور آپ کے درمیان یہ طے پاچکا تھا کہ روم کم ازکم ایک دن کے لئے دیا جاتاہے اس لئے ہوٹل مینیجر کی جانب سے پورا کرایہ لینے کا عمل قابل اعتراض نہیں ، اگر ہوٹل انتظامیہ دوچار گھنٹوں کے پیش نظر دوسرے دن کا کرایہ کم کردے یا دوسرے دن کے گھنٹوں کو شمار نہ کرے تو اُسے اختیار ہے۔

جیساکہ ردالمحتار میں ہے :(فیجب الاجر لدار قبضت ولم تسکن )لوجود تمکنہ من الانتفاع۔ (ردالمحتار، کتاب الاجارۃ، شروط الاجارۃ)

واللہ اعلم بالصواب

سیدضیاءالدین عفی عنہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ

بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔

حیدرآباد دکن

 

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com