***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > اجرت(کرایہ) کا بیان

Share |
سرخی : f 1549    کیا کرایہ دار کرایہ پر دے سکتا ہے؟
مقام : کرنول،انڈیا,
نام : ایم اے مجید
سوال:    

ایک شخص کسی مکان‘ دکان یا زمین کو کرایہ پر حاصل کرلیتا ہے اور زیادہ کرایہ پر دوسروں کو دیتا ہے ، کیا اس طرح کسی کرایہ پر لئے گئے مکان وغیرہ کو کرایہ پر دیا جاسکتا ہے ؟ اس سلسلہ میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟ اگر یہ جائز نہیں تو گنجائش والی کیا صورت ہوسکتی ہے ؟ تفصیل بیان فرمائیں تو نوازش ہوگی ۔


............................................................................
جواب:    

کرایہ پر حاصل کئے گئے کسی مکان‘ دکان یا زمین وغیرہ کو کرایہ پردینے کے سلسلہ میں فقہاء کرام نے تفصیل بیان کی ہے :

 (الف )کرایہ کی جگہ دوسرے شخص کو کرایہ پر دینا ایسی صورت میں جائز ہے جبکہ کرایہ دار کی جانب سے مقرر کردہ کرایہ ‘ مالکِ جائیداد کے مقررہ کرایہ کے برابر ہو یا اس سے کم ہو۔

(ب) اگر کرایہ دار اُس سے زائد کرایہ لیتا ہوتو اضافی کرایہ صدقہ کرنا ازروئے شریعت واجب ہوگا۔

(ج) اگر کرایہ دار کرایہ پر لئے گئے مکان یا دکان وغیرہ کی مرمت کرواتا ہے یا کھلی زمین پر باؤنڈری ڈلواتا ہے یا دروازے لگواتا ہے یا کوئی اور مستقل کام کرواتا ہے تو اُسے زائد کرایہ لینے کا اختیار حاصل ہے ، نیز مالکِ جائیداد کو جو کرنسی دیتا ہے اُس کے علاوہ دوسری کرنسی بطور زائد کرایہ لیتا ہے تو شرعًا گنجائش ہے۔

(د)ہاں ایسے کام کے لئے کرایہ پر نہیں دے سکتا جس سے عمارت کو نقصان پہنچتا ہو۔

جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ہے :وإذا استأجر دارا وقبضہا ثم آجرہا فإنہ یجوز إن آجرہا بمثل ما استأجرہا أو أقل ، وإن آجرہا بأکثر مما استأجرہا فہی جائزۃ أیضا إلا إنہ إن کانت الأجرۃ الثانیۃ من جنس الأجرۃ الأولی فإن الزیادۃ لا تطیب لہ ویتصدق بہا ، وإن کانت من خلاف جنسہا طابت لہ الزیادۃ ولو زاد فی الدار زیادۃ کما لو وتد فیہا وتدا أو حفر فیہا بئرا أو طینا أو أصلح أبوابہا أو شیئا من حوائطہا طابت لہ الزیادۃ ، وأما الکنس فإنہ لا یکون زیادۃ ولہ أن یؤاجرہا من شاء إلا الحداد والقصار والطحان وما أشبہ ذلک مما یضر بالبناء ویوہنہ ہکذا فی السراج الوہاج . (فتاوی عالمگیری ، کتاب الاجارۃ ، الباب السابع فی اجارۃ المستاجر)

واللہ اعلم بالصواب

سیدضیاءالدین عفی عنہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ

بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔

حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com