***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > اجرت(کرایہ) کا بیان

Share |
سرخی : f 1551    طویل مدت کے لئے کرایہ پر دینے کا حکم
مقام : جوگیشوری ، ممبئی ,
نام : میر مسعود
سوال:    

کوئی شخص اپنے مملوکہ گھر کو کئی سالوں کے لئے کرایہ پر دیتا ہے ، اس کے لئے کرایہ دار سے اگریمنٹ کرلیا جاتا ہے جیسے پچیس سال کے لئے یا پچاس سال کے لئے ، شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟

 

        کیا اسلام میں اتنی زیادہ مدت کے لئے گھر وغیرہ کرایہ پر دینا صحیح ہے ؟ جواب مرحمت فرمائیں تو کرم نوازی ہوگی۔


............................................................................
جواب:    

مالکِ جائیداد کو ازروئے شریعت یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی جائیداد مقررہ مدت کے لئے کرایہ پر دے ، خواہ مدت مختصر ہو یا دراز ہو ۔

        لہذا پچیس سال یا پچاس سال کے لئے کرایہ دار سے کرایہ کا اگریمنٹ کرنا شرعًا درست ہے۔

        جیساکہ تبیین الحقائق میں ہے :(والمنفعۃ تعلم ببیان المدۃ کالسکنی والزراعۃ فیصح علی مدۃ معلومۃ أی مدۃ کانت) ومنہ الأجیر الواحد؛ لأن المدۃ إذا کانت معلومۃ کانت المنفعۃ معلومۃ فیجوز طالت المدۃ أو قصرت۔ (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق، کتاب الاجارۃ)

واللہ اعلم بالصواب

سیدضیاءالدین عفی عنہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ

بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔

حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com