***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > سجدۂ سہو کے مسائل

Share |
سرخی : f 1569    مسبوق سجدۂ سہو کے وقت سلام نہیں پھیرے گا
مقام : رائچور ، انڈیا,
نام : وکیع الدین
سوال:    

مفتی صاحب ! امام صاحب کے ساتھ نماز پڑھنے کی صورت میں اگر ایک رکعت چھوٹ جائے اور ایسے وقت امام صاحب سجدۂ سہو کریں تو کیا امام صاحب کے ساتھ ہمیں بھی سجدۂ سہو کرنا ہوگا؟ جبکہ امام صاحب سے پہلی رکعت میں غلطی ہوئی تھی ، بعد میں شریک ہونے والوں کے لئے کیا حکم ہوگا ؟ کیا وہ بھی سلام پھیر کر سجدۂ سہو کریں گے یا نہیں ؟


............................................................................
جواب:    

امام کی اقتداء کرتے ہوئے نماز پڑھنے کی صورت میں سجدۂ سہو کے وقت مقتدی بھی سجدۂ سہو کرے گا خواہ سہو کے وقت وہ امام کے ساتھ شریکِ جماعت رہا ہو یا نہ رہا ہو۔

لہذا جس شخص کی ایک یا ایک سے زائد رکعتیں چھوٹ گئی ہوں وہ امام کے سجدۂ سہو کرنے کے وقت سجدۂ سہو سے پہلے سلام نہیں پھیرے گا ؛ ہاں سجدۂ  سہو کرنے میں اور سجدۂ سہو کے بعد تشھد پڑھنے میں امام کی اتباع کرے گا،اور امام سلام پھیرنے کے بعد چھوٹی ہوئی رکعتیں پڑھے گا۔

درمختار میں ہے : (والمسبوق یسجد مع امامہ مطلقا) سواء کان السھو قبل الاقتداء او بعدہ۔(درمختار ، کتاب الصلٰوۃ، باب سجود السھو)

ردالمحتار میں ہے : (قولہ والمسبوق یسجد مع امامہ ) قید بالسجود لانہ لایتابعہ فی السلام بل یسجد معہ ویتشھد فاذا سلم الامام قام الی القضاء۔(ردالمحتار ، کتاب الصلٰوۃ، باب سجود السھو)

واللہ اعلم بالصواب –

سیدضیاءالدین عفی عنہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ

بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔

www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com