***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > شرکت کا بیان

Share |
سرخی : f 1576    بزنس پارٹنر کے قرض لینے کا حکم
مقام : سکندرآباد،انڈیا,
نام : محمد امجد
سوال:    

مفتی صاحب ! میں اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر ایک کاروبار کررہاہوں ، جس میں کبھی فائدہ ہوتا ہے اور کبھی نقصان ہوتا ہے ، جب فائدہ ہوتو ہم اُسے آپس میں بانٹ لیتے ہیں اور اگر نقصان ہوتو دونوں برداشت کرتے ہیں ، سوال یہ ہے کہ میرا پارٹنر مجھے بتائے بغیر بھاری مقدار میں سامان اُدھار لے چکا ہے اور وہ کہتا ہے کہ تجارت میں ہم جیسا فائدہ لے رہے ہیں ویسے اُدھار لینا ضروری ہوجاتاہے ، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میرے پارٹنر نے جو سامان اُدھا لیا ہے کیا یہ صحیح ہے یا نہیں ؟ کیا مجھے بھی اس کی ادائیگی میں حصہ لینا ہوگا کیونکہ کاروبار پارٹنر شپ میں ہے ؟

 

            یہ میرے لئے بہت ضروری ہے ، آپ ضرور اس کا جواب دیجئے ! مہربانی ہوگی۔

 


............................................................................
جواب:    

شرکت کی صورت میں بزنس پارٹنر کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ نقد یا اُدھار جیسا بہتر سمجھے خریدے یا فروخت کرے جبکہ سرمایہ موجود ہو، البتہ سرمایہ موجود نہ ہونے کی صورت میں اُدھار خریدنے کی اجازت نہیں ، اگر خریدے تو یہ اُدھار خریدی خاص اُس کی سمجھی جائے گی ، پارٹنرشپ سے اس کا کوئی تعلق نہ ہوگا، کیونکہ اُدھار خریدنا یا قرض لینا رأس المال میں اضافہ کرنے کے برابر ہے جبکہ شریک آپسی رضامندی سے طے کردہ سرمایہ کاری پر راضی ہوا تھا ۔

            ہاں اگر شراکت دار نے اس کو اُدھار خریدنے یا قرض لینے کی اجازت دے دی ہے تو ایسی صورت میں جس قدر مال میں اس نے اجازت دی ہے اُس قدر اُدھار خریدی یا قرض میں بھی اس کی شرکت ہوگی۔

            اوپر بیان کی گئی تفصیل کے مطابق پارٹنر کی جانب سے اُدھار لیا گیا سامان آپ کے ذمہ نہیں ، یہ اُن کا شخصی معاملہ ہے ، لہذا قرض کی ادائیگی آپ کے پارٹنر کے ہی ذمہ ہوگی اور اس سے حاصل ہونے والے نفع کا وہ تنہا حقدار ہے، اگر آپ اپنے پارٹنر کو اُدھار خریدی کی اجازت دیں گے تو آپ قرض کی ادائیگی میں بھی حصہ دار ہوں گے اور اس سے حاصل ہونے والے نفع میں بھی شریک ہوںگے۔

            درمختار میں ہے : (ویبیع ) بما عز وھان خلاصۃ ( بنقد ونسیئۃ ) بزازیۃ۔ (درمختار ، کتاب الشرکۃ، مطلب فیما یبطل الشرکۃ)

            اور ردالمحتار میں ہے : ( قولہ : وبنقد ونسیئۃ ) متعلق بقولہ ویبیع وأما الشراء ، فإن لم یکن فی یدہ دراہم ولا دنانیر من الشرکۃ فاشتری بدراہم أو دنانیر فہو لہ خاصۃ ؛ لأنہ لو وقع مشترکا تضمن إیجاب مال زائد علی الشریک وہو لم یرض بالزیادۃ علی رأس المال والوالجیۃ ومفادہ أنہ لو رضی وقع مشترکا ؛ لأنہ یملک الاستدانۃ بإذن شریکہ کما قدمناہ عن البحر عن المحیط۔

واللہ اعلم بالصواب –

سیدضیاءالدین عفی عنہ

شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ

بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔

 

www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com