***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 1584    لاک ڈاؤن میں گھر کا نظام العمل کس طرح ہو؟
مقام : دہلی، انڈیا,
نام : عاقب جاوید
سوال:    

کورونا وائرس کی وجہ سے ہر طرف کرفیو جیسا ماحول ہے، ہر شخص دن رات یوں ہی گھر میں بسر کر رہا ہے، کوئی ویڈیو گیمس میں مشغول ہے تو کوئی سوشل میڈیا پر فضول قسم کی چیٹنگ اور فلمیں وڈرامیں دیکھنے میں مصروف ہے،ایسا محسوس ہوتا ہے ہیکہ وقت کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے، میری آپ سے گزارش ہے کہ ایک مسلمان کے لئے دن رات کس طرح گزارنا چاہئے؟ بطور ِ خاص موجودہ حالات میں اپنے وقت کو کس طرح محفوظ کرنا چاہئے؟ اور اپنے گھروں میں شب وروز کا نظام العمل کیسے بنانا چاہئے؟ اس سلسلہ میں رہنمائی فرمائیں تو نوازش وکرم ہوگا۔


............................................................................
جواب:    

کورونا وائرس کی وجہ سے تقریبا ممالک میں لاک ڈاؤن ہے، ہر شخص اپنے
گھر میں موجودہے، ایسے موقع پر وقت جیسی عظیم نعمت کی قدر کریں! اور اپنے گھر کو عبادت گاہ وخانقاہ کے طور پر اور آرام گاہ و تربیت گاہ کے طور پر استعمال کریں!اللہ تعالی کی بارگاہ میں رجوع کے ساتھ ساتھ اپنے اوقات‘ اعمالِ صالحہ کی انجام دہی اور بچوں کی اسلامی و اخلاقی تربیت میں گزاریں! اپنے گھروں کو مکمل پاک صاف رکھیں‘ خود بھی پاک صاف رہیں‘ گھر
والوں اور بچوں کو بھی پاکیزگی‘صفائی ستھرائی کی تلقین کریں! صابن سے بار
بار ہاتھ اور چہرہ دھوتے رہیں! سنت کے مطابق با وضو رہیں! اپنے گناہوں کا اعتراف و اقرار کرتے ہوے توبہ و استغفار کریں! اس وبائی مرض سے نجات و خلا صی کی دعا ئیں کرتے رہیں!سچی توبہ کس کو کہتے ہیں؟ اس سلسلہ میں مولائے کائنات حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجھہ الکریم نے ارشاد فرمایاکہ چھ چیزوں سے سچی توبہ ہوتی ہے:
        (۱) پچھلے گناہوں پر ندامت و پشیمانی کریں۔ (۲)جو فرائض چھوٹ گئے ہیں اُن کی قضاکریں۔ (۳) کسی کا حق تلف ہوا ہو تو اُس کی تلافی کریں۔ (۴) کسی کے ساتھ جھگڑا کیا ہو تو اُس سے معافی طلب کریں۔ (۵) پختہ ارادہ کریں کہ آئندہ گناہ نہیں کروں گا۔ (۶) اپنے نفس کو جس طرح گناہوں سے فربہ کیا ہے اب ویسے ہی نیکی کے کاموں میں پامال کریں۔
        صبح و شام اللہ تعالی کی طرف راغب رہیں،اگر ہوسکے تو فجر سے پہلے رات کے اخیر حصہ میں بیدارہوں اور نماز تہجد پڑھیں؛ ورنہ فجر کے لئے لازماً اٹھیں،فجر کے بعد سورۃ یٰس کی تلاوت کریں اورقرآن کریم کی سلسلہ وار تلاوت کا معمول بنائیں؛ ترجمہ وتفسیر کے ساتھ ہو تو بہتر ہے، اجتماعی طور پر قرآن کریم کی تلاوت کریں!بچوں سے تلاوت سنیں،صبح و شام پڑھی جانے والی دعائیں بچوں کو یاد دلائیں،بچوں کوجو دعائیں یاد ہیں اس کو سن لیں! ناشتہکے بعد انبیاء کرام کے واقعات پڑھ کر سنائیں، اگر پڑھنے سے ناواقف ہوں تو دوسروں کو پڑھنے کے لئے کہیں! نماز کے شرائط‘فرائض و واجبات چھوٹے بڑے سب زبانی یاد کریں؛ بشمول دعائے قنوت تمام اذکار یاد کریں!نماز ظہر و ظہرانہ سے فارغ ہوجائیں، کچھ دیر قیلولہ (آرام)کریں پھربا وضو ہوکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ‘ صحابہ کرام و اہل بیت اطہار کے واقعات پڑھ کر سنائیں!عصر سے پہلے یا بعد بچوں کوتفریح کے طور پر کھیلنے کا موقع دیں!مغرب تا عشاء بچے جن مضامین میں کمزور ہیں جیسے حساب وغیرہ ان کی مشق کروائیں! نماز عشاء اور عشائیہ کے بعد حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے واقعات اور درود شریف سے متعلق احادیث و واقعات بیان کریں! سونے سے پہلے کوئی خاص عدد جیسے اکیس (21)مرتبہ،اکاون(51) مرتبہ، ایک سو ایک (101) مرتبہ یا حسب سہولت مقرر کریں اور اتنی مرتبہ روزانہ سونے سے پہلے درود شریف پڑھیں! رات جلد آرام کریں؛ تاکہ رات کی نیند تہجد یا فجر کے وقت بیداری کے لئے مدد گار ثابت ہو۔
        بلا لحاظ مذہب و ملت غرباء و مساکین کاخیال رکھیں! حسب مقدور انہیں غلہ،راشن اور بنیادی ضروریات مہیا کریں! شرعی احکام کی پابندی کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرس کی طبی ہدایات اور ملکی قوانین کا مکمل لحاظ رکھیں!بلا وجہ خود بھی گھر سے باہر نہ نکلیں اور بچوں کو بھی سختی سے پابند کریں۔

واللہ اعلم بالصواب
از:حضرت مولانامفتی سید ضیاء الدین نقشبندی مجددی قادری،شیخ الفقہ جامعہ
نظامیہ وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com