***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > رشتہ داروں کے حقوق

Share |
سرخی : f 164    رشتہ داروں کے ساتھ  صلہ رحمی  کرنے کا حکم
مقام : حیدرآباد ۔انڈیا,
نام : فہیم
سوال:    

اگر کوئی رشتہ دار ہمارے ماں باپ کو تکلیف دے او رہم اس سے بات کرنا نہیں چاہتے تو یہ کہاں تک درست ہے؟


............................................................................
جواب:    

رشتہ دار کا آپ کے والدین کو تکلیف دینا درست نہیں‘ اور اگر آپ اُن سے بات نہ کریں تو یہ بھی درست نہ ہوگا‘ آپ اپنے رشتہ دار کو سمجھانے کی کوشش کریں‘ اُن سے تعلق برقرار رکھیں اور صلہ رحمی کریں۔ صلہ رحمی سے متعلق جامع ترمذی شریف میں حدیث پاک ہے : عن عبداللہ بن عمرو عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لیس الواصل بالمکافی ولکن الواصل الذی اذا انقطعت رحمہ وصلھا۔ ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو برابری کرے لیکن صلہ رحمی کرنے والا وہ شخص ہے کہ جب رشتہ داری منقطع ہوجائے تو وہ اُس کو ملائے۔ (جامع ترمذی شریف ج 2‘ باب ماجاء فی صلۃ الرحم‘ حدیث نمبر:1831) واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com