***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > زکوٰۃ کا بیان > زکوة کے مصارف

Share |
سرخی : f 168    زکوٰۃ کی رقم سے تجہیز وتکفین
مقام : حیدرآباد ۔انڈیا,
نام : سہیل
سوال:    

مسلم معاشرے میں بعض لوگوں کی معاشی حالت اتنی خستہ ہوتی ہے کہ انتقال کے وقت میت کی تدفین اہل خانہ کے لئے ایک مسئلہ بن جاتی ہے ، اسی معاشی انحطاط کے پیش نظر ہم نوجوان زکوٰۃ وصدقات کی رقوم جمع کر کے مستحق افراد کی تجہیز وتکفین کا نظم قائم کرنا چاہتے ہیں، کیا ہمارایہ اقدام شرعاًدرست ہے؟


............................................................................
جواب:    

امور خیر میں تعاون کرنے کا جذبہ یقینا ایک خوش آئند اقدام ہے ،یہ اللہ تعالی کے پاس قابل ستائش ہے او رمعاشرے میں ایک لائق تقلید وتحسین عمل ہے ۔جہاں تک زکوٰۃ اداکرنے کاسوال ہے تواس کے لئے کسی ایسے مسلمان کو پوری طرح مالک بنانا ضروری ہے جو صاحب نصاب نہ ہو چونکہ تجہیز وتکفین میں مالک بنا نے کا مفہوم نہیں پایا جاتا اسلئے ا س غرض سے زکوۃ کی ر قم وصول کرنا او راس کو میت کی تدفین پر خرچ کرنا درست نہیں۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری ج ۱ ص۱۷۰ میں ہے ’’فہی تملیک المال من فقیرمسلم غیرہاشمی‘‘ اور ص۱۸۸میں ہے ولا یجوزان یکفن بہامیت ۔ لہذا زکوۃکی رقم کے بجائے آپسی تعاون وباہمی امداد سے یہ امور انجام دےئے جائیں ۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com