***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > نماز تراویح کے مسائل

Share |
سرخی : f 169    تراویح میں شریک ہونے کیلئے رکوع کا انتظار کرنا
مقام : شاہ علی بنڈہ .حیدرآباد,
نام : حافظ محمد مجیب الرحمن
سوال:     نماز تراویح میں عموماً یہ دیکھا جاتا ہے کہ جب پہلی رکعت کی ابتداء ہوتی ہے تو بعض نوجوان جماعت میں شامل ہونے کے بجائے امام صاحب کے رکوع میں جانے تک انتظار کرتے ہیں اور پھر جماعت میں شامل ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح کرنا کیسا ہے ؟  

............................................................................
جواب:     امام کے تکبیر تحریمہ کے فوری بعد نماز میں شامل ہونا مستحب ہے ۔ بدائع الصنائع ج 1ص 467میں ہے
’’ ومنھا ان یکبر بعد فراغ الامام من التکبیر ‘‘
۔ اور فتاوی عالمگیری ج 1ص 68میں ہے ۔
’’ وعندھما بعد ما احرم والفتویٰ علی قولھما ‘‘
جماعت قائم ہونے کے باوجود سستی و کاہلی کی بناء جماعت میں شامل نہ ہوکر امام صاحب کے رکوع کرنے کا انتظار کرنا مکروہ ہے ۔ فتاوی درمختار ج 1ص 523میں ہے ۔
’’ کما یکرہ تاخیرالقیام الی رکوع الامام للتشبہ بالمنافق ‘‘
نماز میں سستی و کاہلی کرنا منافقین کی علامت ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ فرماتا ہے ۔
’’ واذا اقامو الی الصلوٰۃ قاموا کسالیٰ یراؤن الناس
۔ ترجمہ : اور جب نماز کی طرف کھڑے ہوتے ہیں تو کاہل بن کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ (وہ بھی عبادت کی نیت سے نہیں بلکہ ) لوگوں کو دکھانے کے لئے (سورہ نساء : 142) اس لئے منافقین کے اعمال اور عادات سے اپنے آپ کو بچانا چاہئے ۔  
برخلاف اس کے جو شخص خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لئے تکبیر تحریمہ کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کو دوزخ اور نفاق سے بری فرمادیتا ہے ۔ ( جامع الترمذی ج 1ص 56)  واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com