***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > حج وعمره کا بیان > طواف کے مسائل

Share |
سرخی : f 180    دوران طواف وضو ٹوٹ جائے تو کیا کریں؟
مقام : گولگنڈہ . انڈیا,
نام : محمد علیم الدین
سوال:     میرا سوال یہ ہے کہ اگر طواف کرتے وقت وضو ٹوٹ جائے تو ایسی حالت میں کیا کریں؟ وضو کرنے کے بعد پھر شروع سے طواف کریں یا جہاں تک طواف کیا تھا پھر وہیں سے طواف شروع کردیں؟براہ کرم رہنمائی فرمائیں-

............................................................................
جواب:     اگر دوران طواف وضو ٹوٹ جائے تو فقہائے کرام نے اس کی دو صورتیں بیان کی ہیں-
(1 اگر طواف کا اکثر حصہ ادا کرنے کے بعد یعنی طواف کے چار پھیرے مکمل کرنے کے بعد وضو ٹوٹ جائے تو وضو کرکے آنے کے بعد جس پھیرے میں وضو ٹوٹ گیا وہیں سے بقیہ پھیرے مکمل کرلیں،ازسرنو طواف کرنے کی ضرورت نہیں-
(2 اگر طواف کے پہلے،دوسرے،تیسرے یا چوتھے پھیرے میں وضو ٹوٹ جائے تو بہتر یہی ہے کہ وضو کرنے کے بعد ازسرنو طواف کریں، تاہم بنا کرنا بھی جائز ہے یعنی جس پھیرے میں وضو ٹوٹ گیا ہے وہیں سے بقیہ پھیروں  کی تکمیل کریں یہ بھی درست ہے-جیساکہ درمختار میں ہے:
واعلم أن مکان الطواف داخل المسجد ۔ ۔ ۔ ولو خرج منہ أو من السعی إلی جنازۃ أو مکتوبۃ أو تجدید وضوء ثم عاد بنی-  

اور رد المحتار میں ہے:
  ( قولہ بنی ) أی علی ما کان طافہ ، ولا یلزمہ الاستقبال فتح .قلت : ظاہرہ أنہ لو استقبل لا شیء علیہ فلا یلزمہ إتمام الأول لأن ہذا الاستقبال للإکمال بالموالاۃ بین الأشواط ، ثم رأیت فی اللباب ما یدل علیہ حیث قال فی فضل مستحبات الطواف : ومنہا استئناف الطواف لو قطعہ أو فعلہ علی وجہ مکروہ قال شارحہ لو قطعہ أی ولو بعذر والظاہر أنہ مقید بما قبل إتیان أکثرہ ا ہ۔( رد المحتار،کتاب الحج، فصل  فی الإحرام وصفۃ المفرد بالحج)  

واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com