***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > زکوٰۃ کا بیان > زکوة کے مصارف

Share |
سرخی : f 184    بڑے بھائی کوزکوۃ کی رقم دینے کا حکم
مقام : ناندیڑ india,
نام : raheem
سوال:    

ہم دوبھائی ہیں، میں تجارت سے وابستہ ہوں اور الحمدللہ خوشحال زندگی بسرکررہا ہوں ، میرے بڑے بھائی صاحب کثیر العیال او رتنگدست ہیں ، مجھ پرزکوۃ واجب ہے میں اپنی زکوۃ کامال بڑے بھائی کو دینا چاہتا ہوں ، کیامیں انہیں زکوۃ دے سکتاہوں؟


............................................................................
جواب:    

آدمی اپنے اصول یعنی والد، والدہ ، دادا، دادی ، نانا، نانی ، اسی طرح اوپر کے تمام ددھیالی وننیالی رشتہ داراور فروع یعنی بیٹا، بیٹی ،پوتا ، پوتی ، نواسہ ، نواسی اورنیچے تک کی تمام اولادکوزکوۃ نہیں دے سکتاونیز میاں ، بیوی بھی آپس میں ایک دوسرے کوزکوۃ نہیں دے سکتے ،ان کے سوادیگر رشتہ داراگر مستحق زکوۃ ہوں اور سادات نہ ہوں تودیگرافراد کو زکوۃدینے کے بالمقابل ان کوزکوۃ دی جاسکتی ہے ، رشتہ داروں کو زکوۃ دینے میں دوطرح کا اجرہے ایک توادائی زکوۃ کا، دوسرے صلہ ر حمی کا ، جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: الصدقۃ علی المسکین صدقۃ وہی علی ذی الرحم ثنتان صدقۃ وصلۃ
(جامع ترمذی شریف ج ۱ص ۱۴۲!۱۴۳حدیث نمبر: ۵۹۴﴾۔ زکوۃ اداکرنے والے کے لئے بہتریہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے مستحق بھائیوں او ربہنوں کوزکوۃ دے پھر ان کی اولاد کوپھر دیگرقرابتداروں میں چچا، پھوپی پھر ان کی اولاد پھر ماموں، خالہ پھر ان کی اولاد کالحاظ رکھے ، فتاوی عالمگیر ی ج ۱کتاب الزکوۃالباب السابع فی المصارف ص۱۹۰ میں ہے الصرف اولاالی الاخوۃ والاخوات ثم الی اولادہم ثم الی الاعمام والعمات ثم الی اولادہم ثم الی الاخوال والخالات ثم الی اولادہم ثم الی ذوی الارحام۔
لہذا آپ کے لئے بہتر ہے کہ آپ زکوۃ کی رقم اپنے تنگدست بھائی کو دیں ، یہ آپ کیلئے دوہرے اجرکا باعث ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com