***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > زکوٰۃ کا بیان > زکوٰۃ واجب ہونے کی صورتیں

Share |
سرخی : f 196    کرایہ پردی جانے والی اشیاء پر زکوٰۃ کا حکم
مقام : سکندرآباد,
نام : محمدمنیرالدین
سوال:    

ملبوسات، گاڑیوں ، کاروں اور دیگر چیزوں کے شورومس میں جو مال رکھا ہوتا ہے اس میں زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟ اسی طرح کرایہ پر دی جانے والی کاریں ، مکانات، کامپلکس اور سپلائینگ کمپنی کے سامان میں زکوٰۃ واجب ہوگی یانہیں؟


............................................................................
جواب:    

سامان پر زکوٰۃ اسی وقت ہوتی ہے جب و ہ تجارت کے لیے ہو، اس کے لیے شرط یہ ہیکہ سامان تجارت کی قیمت نصاب تک پہنچتی ہو اور اس پر ایک سال گذر چکا ہو، شورومس میں جو ملبوسات، گاڑیاں، کاریں وغیرہ ہوتی ہیں ظاہر ہے وہ تجارت کی غرض سے ہی رکھی جاتی ہیں اور نبی کریم ﷺ نے سامان تجارت کی زکوٰۃ نکالنے کا حکم فرمایا۔ سنن ابوداوٴدشریف ﴿حدیث نمبر1546﴾ میں حدیث پاک ہے۔ ’’عن سمرۃ بن جندب ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یامرنا ا ن نخرج الصدقۃ من الذی نعد للبیع ‘‘ ترجمہ: سیدنا سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہﷺ ہم کو اس (سامان) کی زکوٰۃ نکالنے کا حکم فرماتے جسکو ہم فروخت کرنے کے لیے تیار کرتے تھے۔ لہٰذا ملبوسات، گاڑیاں، کاریں، مکانات اور وہ تمام چیزیں جو فروخت کرنے کے لیے ہوں سامان تجارت ہیں، ان کی قیمت نصاب تک پہنچنے کی صورت میں ان پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ اگر سال کی ابتداء میں یہ تجارتی سامان کی قیمت نصاب تک پہنچی ہوئی تھی تو دوران سال سامان میں جو بھی اضافہ ہو وہ اختتام سال تک باقی رہا تو مجموعی سامان پر زکوٰۃ واجب ہوگی- اور سال کے اختتام پر جو قیمت ہے زکوٰۃ ادا کرتے وقت وہی قیمت معتبر ہوگی۔ (فتاوی عالمگیری ج1ص175اور 179) جو چیزیں کرایہ پر دی جاتی ہیں ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی بلکہ ان کا جو کرایہ اور نفع حاصل ہوتا ہے اسکی رقم نصاب تک پہنچتی ہو تو اس حاصل ہونے والے نفع اور آمدنی کی مالیت پر زکوٰۃ واجب ہوگی، جبکہ وہ بنیادی ضرورت سے زائد ہو اور اس پر سال گذرچکا ہو۔ بنابریں کاریں، مکانات ، کامپلکس، ملگیات اور سپلائینگ کمپنی کا سامان اور دیگر اشیاء جو کرایہ پر دی جاتی ہیں ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ، ان کے کرایہ پر زکوٰۃ واجب ہوگی ۔ فتاوی خانیہ بر حاشیہ عالمگیری ج1ص 251میں ہے ولواشتری قدورا من صفر یمسکھا اویواجرھا لاتجب فیھا الزکاۃ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com