***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > حج وعمره کا بیان > احرام کے ممنوعات ‘ احرام

Share |
سرخی : f 203    بحالت احر ام ماسک﴿Mask﴾ کا استعمال
مقام : سعودیہ عربیہ,
نام : نعیم الدین
سوال:     حالت احرام میں ماسک Mask استعمال کرنے کے بارے میں شرعا کیا کوئی گنجائش نکل سکتی ہے ۔اگرماسک استعمال کیا جائے تواس کا کیا حکم ہےَ؟آج کل سوائن فلوکی وباء کے باعث حجاج کے لئے کیا اس بارے میں کوئی خصوصی رعایت مل سکتی ہے ۔مفتی صاحب اس کا جواب مرحمت فرمائیں تو موجب تشکرہوگا۔
............................................................................
جواب:     بحالت احرام مرد و زن ہر دو کے لئے از روئے شرع جو پابندیاں عائد ہوتی ہیں منجملہ ان کے ایک چہرہ کو کپڑا لگنے سے بچاناہے ۔ بحالت احرام بلا عذر چہرہ کو ڈھانکا جائے تو یہ گناہ بھی ہے اور اس پر کفارہ بھی عائد ہوتا ہے اورکسی عذر کی وجہ سے ڈھانکا جائے تو یہ گناہ تو نہیں ہے تاہم اسکا کفارہ لازم آئیگا۔
حالت احرام میں عازمین حج وعمرہ و زائرین روضہ مقدسہ کو اللہ تعالی پر کامل توکل واعتماد رکھنا چاہئے کہ وہ حرمین شریفین کی شفا بخش فضاؤں اور صحت افزا ہواؤں میں انہیں ضرور سعادتوں وبرکتوں سے بہرمند فرمائے گا ،جہاں کی پاکیزہ آب وہوا بجائے خود دافع بلا اور ہر مرض ووباء سے شفاء ہے ۔تاہم اگرکوئی بحالت احرام ماسک کا استعمال کرے جس سے کل چہرہ یا چوتھائی حصہ ڈھک جائے تو فقہائے کرام نے دونوں کا حکم یکساں بیان کیا ہے۔ البتھ ماسک استعمال کرنے والوں کی  دوقسمیں ہوں گی ،پہلی قسم:اگر کوئی اس درجہ کمال میں ہے کہ اسے سوائن فلو جیسے وبائی امراض میں مبتلا ہونے کا مطلقا اندیشہ نہیں ہے لیکن بر بناء احتیاط استعمال کرے تو اس کے لئے حکم شرعی کی حسب ذیل تفصیل ہوگی: (1)اگرماسک ایک گھنٹہ سے کم استعمال کیا جائے تو ایسی صورت میں ایک مٹھی غلہ خیرات کرنا لازم ہے۔ (2)اگر چوبیس گھنٹہ سے کم استعمال کیا جائے تو ایک صدقہ فطر واجب ہوگا۔(3)اگرچوبیس گھنٹہ سے زائد استعمال کیا جائے خواہ کتنے ہی دن کیوں نہ ہوں تو ایک دم یعنی بکرے کی قربانی لازم ہوگی۔
دوسری قسم:اگر کسی شخص کی حالت کمال کے اس اعلی درجہ میں نہ ہو اور سوائن فلو جیسے وبائی امراض میں مبتلا ہونے کا اندیشہ لاحق ہو تو یہ ان کے حق میں عذر ہوگا، ایسے افراد کے لئے ماسک استعمال کرنے کی شرعا گنجائش ہے اور ان کو بھی اس کا کفارہ اداکرنا ہوگا جس کی تفصیل یہ ہے :(1)اگر وہ ماسک ایک گھنٹہ سے کم استعمال کرے تو ایک مٹھی غلہ خیرات کردے۔ (2)اگر چوبیس گھنٹہ سے کم استعمال کیا ہے تو اختیار ہے ایک صدقہ فطر کے برابرصدقہ کرے  یا ایک روزہ رکھے۔(3)اگرچوبیس گھنٹہ سے زائد استعمال کرے تو خواہ کتنے ہی دن کیوں نہ ہوں اسے تین چیزوں میں سے کسی ایک کا اختیار رہے گا، چاہے بکرے کی قربانی کرے  یا چھ مسکینوں کوایک ایک صدقہ فطر کے برابرصدقہ کرے  یا تین روزے رکھے۔  
جیساکہ ردالمحتار،کتاب الحج ،فصل فی الاحرام وصفۃ المفرد میں ہے:
لکن فی تغطیۃ کل الوجہ أو الرأس یوما أو لیلۃ دم والربع منہما کالکل وفی الأقل من یوم أو من الربع صدقۃ کما فی اللباب
ونیز ردالمحتار، باب الجنایات فی الحج میں ہے:
فی الخزانۃ فی الساعۃ نصف صاع ، وفیما دونہا قبضۃ ۔ اور ردالمحتار کے اسی باب میں ہے  :
( وإن طیب أو حلق ) أو لبس ( بعذر ) خیر إن شاء ( ذبح ) فی الحرم ( أو تصدق بثلاثۃ أصوع طعام علی ستۃ مساکین ) أین شاء ( أو صام ثلاثۃ أیام ) ولو متفرقۃ ۔   واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com