***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > پڑوسیوں کے حقوق

Share |
سرخی : f 207    پڑوسیوں کیساتھ حسن سلوک کرنے کاحکم
مقام : کتہ پیٹ،انڈیا,
نام : اطہر شریف
سوال:    

ہمارے پڑوسیوں کے پاس سے اکثر لڑائی جھگڑا سننے میں آتا ہے ،ایک پڑوسی پر دوسرے پڑوسی کے کیا حقوق ہوتے ہیں ،قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان فرمائیں نوازش ہوگی ؟


............................................................................
جواب:    

پڑوسیوں سے حسن سلوک کرنے کے سلسلہ میں اللہ تعالی کاارشادہے : والجار ذی القربی والجار الجنب والصاحب بالجنب۔ ترجمہ:رشتہ دار پڑوسی،اجنبی پڑوسی اورہمنشین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔(سورۃالنساء۔36) پڑوسیوں سے حسن سلوک اور نیک برتاؤ کرنے والے کیلئے بشارتیںوارد ہوئی ہیں ،جامع ترمذی شریف ج2 ص16میں حدیث پاک ہے : عن عبداللہ بن عمرو قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیرالاصحاب عنداللہ خیرہم لصاحبہ وخیرالجیران عنداللہ خیرہم لجارہ۔ ترجمہ:سیدناعبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہما سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا اللہ تعالی کے نزدیک بہترین ساتھی وہ ہے جواپنے ساتھی کیلئے بہتر ہے اور اللہ تعالی کے پاس بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لئے بہتر ہے۔ نیزجامع ترمذی شریف ج2 ص 56میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک تفصیلی مرفوع روایت ہیں،روایت کا ایک حصہ ملاحظہ ہو: واحسن الی جارک تکن مؤمنا۔ ترجمہ:تم اپنے پڑوسی سے حسن سلوک کرومؤمن ہوجاوگے ۔ پڑوسی کو تکلیف پہنچانا سخت گنا ہ ہے ایسے شخص کے بارے میںوعید آئی ہے صحیح بخاری شریف ج2ص889میں حدیث پاک ہے: عن ابی شریح ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال واللہ لا یؤمن واللہ لا یؤمن واللہ لا یؤمن قیل من یارسول اللہ قال الذی لایامن جارہ بوائقہ۔ ترجمہ:حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اللہ کی قسم وہ مؤمن نہیں،اللہ کی قسم وہ مؤمن نہیں،اللہ کی قسم وہ مؤمن نہیں عرض کیا گیا !کون یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ارشادفرمایا:وہ شخص جس کاپڑوسی اس کی برائیوں سے محفوظ نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پڑوسی سے حسن سلوک کرنا چاہئے اور اسے تکلیف نہیں پہنچانی چاہئے ،آدمی کسی کے ساتھ رہتا ہے تو کچھ وقت یا ایک دودن کی سنگت ہوتی ہے،اور کسی ایک معاملہ سے متعلق ملاقات رہتی ہے،لیکن پڑوسی سے شب وروز ملاقات رہتی ہے اور کئی ایک امور میں معاملت ہوتی ہے ،جب آدمی پڑوسی سے حسن سلوک کرنے والاہوجائے اور اس کے پڑوسی اس سے مامون اور اس کے شر سے محفوظ ہوں تووہ دوسروں سے بدرجہ اولی حسن سلوک کرنے والاہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com