***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > سجدۂ سہو کے مسائل

Share |
سرخی : f 220    اگر مسبوق امام کے ساتھ سلام پھیردے ۔ ۔ ۔ ؟
مقام : کلثوم پورہ حیدرآباد۔انڈیا,
نام : سمیع الدین
سوال:    

جو لوگ نماز کے آغاز سے امام صاحب کے ساتھ جماعت میں شریک نہ ہوں ایک دو رکعت کے بعد آئیں وہ امام صاحب سلام پھیرنے کے بعد چھوٹی ہوئی رکعتیں پڑھ لیتے ہیں ، اگر ایسا کوئی شخص بھول کر امام صاحب کے ساتھ سلام پھیردے تو اس کو کیا کرنا چاہئے ۔؟


............................................................................
جواب:    

مسبوق جس کی ایک یا ایک سے زائد رکعتیں فوت ہوجائیں اسکو امام کے سلام پھیرنے کے بعد فوت شدہ رکعتیں ادا کرلینی چاہئے ۔ اگر کوئی مسبوق شخص امام کے ساتھ نادانستہ سلام پھیردے اور سلام پھیرنے کے بعد گفتگو نہ کرے اور کوئی منافی نماز عمل نہ کرے پھراس کو یاد آجائے تو اس کی نماز فاسد نہ ہوگی ۔ ایسی صورت میں اس کو چاہےئے کہ فوت شدہ رکعتیں ادا کرکے سجدہ سہو کرلے۔ اگر وہ امام کے سلام کے بعد سلام پھیرے تو اسکو سجدہ سہوکرنا ضروری ہے کیونکہ اسکا یہ سہو منفرد کا سہو ہے۔ (مقتدی کا نہیں) تو وہ فوت شدہ رکعتیں ادا کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرلے۔ بدائع الصنائع ج 1،کتاب الصلوٰۃ ،بیان من یجب علیہ سجود السہو ومن لا یجب علیہ سجود السہو،ص224 میں ہے: فإذا سلم مع الإمام فإن کان ذاکرا لما علیہ من القضاء فسدت صلاتہ لأنہ سلام عمد وإن لم یکن ذاکرا لہ لا تفسد لأنہ سلام سہو فلم یخرجہ عن الصلاۃ۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com