***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > شرکت کا بیان

Share |
سرخی : f 227    مشترکہ سرمایہ کاری میں نفع متعین کرنے کا حکم
مقام : سعودیہ عربیہ,
نام : کریم ،
سوال:     میں اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر کاروبار میں سرمایہ لگارہاہوں ایک آدمی کوملازم رکھیں گے تمام کام اس کے ذمہ ہوگا ۔ اس کا روبار میں ساٹھ ۶۰ فیصد سرمایہ میرا ہے او رچالیس فیصد میرے دوست کا ، مجموعی سرمایہ تیس لاکھ ہے کاروباکے اخراجات نکالنے کے بعد ایک لاکھ روپئے ،نفع آنے کی توقع ہے میرے دوست کہتے ہیں کہ جتنا نفع ہوگا اس میں سے مجھے چالیس 40,000روپئے دے دوباقی نفع تمہارا ہے اگرنفع نہ ہوا توکوئی بات نہیں میں جاننا چاہتا ہوں کیا اس طرح پارٹنر شپ میں کاروبا رکرنا درست ہے ؟
............................................................................
جواب:     کسی جائز کاروبار میں مشترکہ طور پر سرمایہ لگانا اس شرط کے ساتھ درست ہے کہ فریقین نفع ونقصان میں شریک ہوں او ردونوں کے درمیان نفع کاتناسب متعین ہونہ کہ نفع کی مقدار ۔
آپ نے جو صورت ذکرکی ہے اس میں پہلی شرط توپائی جار ہی ہے کہ خسارہ کی صورت میں فریقین نقصان میں بھی شریک ہوں گے ، لیکن دوسری شرط مفقود ہے ، پارٹنرشپ میں سرمایا کاری کے لئے یہ اسلامی اصول لازمی ہے کہ نفع کا فیصد مقررہو جسے ایک کا چالیس فیصد دوسرے کا ساٹھ فیصد یا آدھا آدھا، یا شریکین آپسی رضی مندی کے ساتھ جو فیصد مقرر کرلیں لیکن نفع کی مقدار مقرر نا کرنا جس طرح آپ کے دوست نے چالیس ہزار 40,000روپئے مقرر کئے ہیں درست نہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com