***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > مسافر کی نماز کے مسائل

Share |
سرخی : f 231    سفرکی فوت شدہ نماز کس طرح اداکی جائے ؟
مقام : کرنول,
نام : محمد لیاقت علی
سوال:    

ہم چند دوست ممبیٔ گئے تھے ،ٹرین کا وقت عشاء کے بعد تھا ، گھر سے نکلتے وقت عشاء کی نماز کا وقت شروع چکا تھااسی طرح سفر میں نماز عشاء کاوقت گذر گیا ہم نماز ادا نہیں کرسکے ممبئی پہنچنے کے بعد ہم نماز قصرکرتے رہے لیکن حیدآباد سے نکلتے وقت جو نماز عشاء قضاء ہوئی تھی کیا اس کو قصر کے ساتھ دورکعت قضاء کرنا چاہئے یا پوری چارکعتیں پڑھنا چاہئے ؟


............................................................................
جواب:    

شرعی مسافر کو نمازیں قصر کرنا لازم وضروری ہے ، نماز کی ادائیگی جس طرح ذمہ میں واجب ہوئی اس کی قضا بھی اسی طرح کرنی چاہئے خواہ حالت سفر میں قضاء کررہے ہوں یا وطن میں آکر قضاء کررہے ہوں ۔ جب نماز کا وقت حضر میں شروع ہو اس کے بعد آدمی مسافر ہو جائے اور نماز فوت ہوجائے اور ادا نہ کرسکے تو قضاء پڑھتے وقت نماز قصر کرنی چاہئے کیونکہ وہ نماز کے آخری وقت میں مسافر تھا اگر چہ حضر میں نماز کا ابتدائی وقت مل چکا تھا لیکن قضاء پڑھنے کے لئے آخری وقت کا اعتبارکیا جائے گا- اگر نماز کے آخر وقت میں مسافر تھا تو قصرپڑھے اور اگر مقیم تھا تو قصر نہ کرے بلکہ پوری پڑھے جیسا کہ مراقی الفلاح، باب صلوٰۃ المسافر، ص428،میں ہے : (والمعتبرفیہ)ای لزوم الاربع بالحضر والرکعتین بالسفر(آخر الوقت )فان کان فی آخرہ مسافرا صلی رکعتین وان کان مقیما صلی اربعا۔ ترجمہ: حضر کی وجہ سے چار رکعت اور سفرکی وجہ سے دو رکعت واجب ہونے کے لئے آخری وقت کا اعتبارہے ،اگر کوئی شخص آخری وقت میں مسافر ہوتو دو رکعت پڑھے اور مقیم ہو تو چار رکعت پڑھے- آپ حیدرآباد سے ممبئی روانہ ہونے کے لئے گھر سے نکلتے وقت ہی نماز عشاء کا وقت شروع ہوچکا تھا لیکن نماز کے آخری وقت آپٖ مسافرتھے لہذا آپ کو اس کی قضاء پڑھتے وقت قصرکرنا چاہئے ہرصاحب ایمان کے لئے لازم وضروری ہے کہ بحالت سفرہویا حضر نماز اور دیگر فرائض وواجبات کی ادائیگی کا مکمل اہتمام کرے ،سفرکے لئے ہم جس طرح دیگر تیاریاں کرتے ہیں اس سے کہیں زائد ہمیں عبادات کا لحاظ رہنا چاہئے ۔وباللہ التوفیق ۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com