***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > آداب

Share |
سرخی : f 232    Hello کے دو معانی اور ان کاحکم
مقام : انڈیا,
نام : سلمان
سوال:    

کیا فرماتے ہیں علماء کرام کہ امام کعبہ اور سعودی عربیہ کے ستر علماء نے Hello کہنے یا کرنے کو تو حرام قرار دیا ہے کیونکہ Hell کا مطلب جہنم ہے اور Hello کا مطلب جہنمی ہے اس کی وضاحت فرمائیے تو کرم ہوگا کیا Hello کہنا حرام ہے؟ وضاحت فرمائیں۔ 


............................................................................
جواب:    

ایک لفظ کے کئی معانی ہوسکتے ہیں Hello کا معنی جہنمی ہے جیسا کہ آپ نے سوال میں ذکرکیا‘ اسی طرح Hello کا لفظ ملاقات وگفتگوکے وقت استقبال اور خوش آمدید کے معنی میں مستعمل ہے، اسی وجہ سے اگر کوئی شخص استقبال کیلئے Hello کا لفظ استعمال کررہا ہوتو جائز ہے، اس لفظ کو استعمال کرنے میں کوئی قباحت نہیں اور برے معنی مراد لیتے ہوئے کسی کو Hello نہیں کہنا چاہئیے اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com