***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > خرید و فروخت کا بیان

Share |
سرخی : f 241    حرام اور مردار جانوروں کے ہڈیوں کی تجارت
مقام : امریکہ,
نام : نعیم اللہ
سوال:    

ہڈیوں سے نمک بنا یاجاتاہے، کھاد بنائی جاتی ہے اور دوائیں تیار کرنے میں ہڈیوں کو استعمال کیا جاتاہے جس کی وجہہ سے حلال وحرام جانوروں کی ہڈیوں کی تجارت ہورہی ہے اور مردار کی ہڈیوں کی بھی خرید وفروخت کی جارہی ہے کیاحرام اور مردار جانوروں کی ہڈیوں کی تجارت کرناشرعاًدرست ہے؟


............................................................................
جواب:    

خنزیراورانسان کے اعضاء کی تجارت شرعاًجائز نہیں،اسلامی قانون نے انسان کوقابل قدروباعظمت قراردیا ہے ،یہ بات خواہ مسلمان ہویا غیر مسلم اس کی شرافت وبزرگی کے خلاف ہے اورخنزیرعین نجاست ہے جس طرح نفس خنزیر کی تجارت جائز نہیں اسی طرح اس کے اجزاء کی خرید وفروخت بھی حرام ہے ، دوسرے جانوروں کی ہڈی ، بال، سینگ ،اون ،وغیرہ بیچنا جائز ہے خواہ ذبیحہ ہو یا مردار، حلال ہویاحرام ۔ہدایہ ج 3ص 55 میں ہے ولایجوزبیع شعر الخنزیر لانہ نجس العین ۔ ۔ ۔ ولایجوزبیع شعور الانسان ولاالانتفاع بہ لان الادمی مکرم لامبتذل ۔ ۔ ۔ ولاباس ببیع عظام المیتۃ وعصبھا وصوفہا وقرنہا وشعرہا ووبرہا والانتفاع بذلک کلہ لانہا طاہرۃ لایحلہا الموت لعدم الحیوۃ، ردالمحتار ج 4کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطلب الادمی مکرم شرعاولوکافراص 117میں ہے والادمی مکرم شرعاً وان کان کافرافایر ادالعقد علیہ وابتذالہ بہ والحاقہ بالجمادات اذلال لہ ۔ اگرہڈیوں میں انسان کی یاخنزیر کی ہڈی ملی ہوئی نہ ہوتو ہڈیو ں کی تجارت کرنا ازروئے شریعت جائزومباح ہے۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com