***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > خرید و فروخت کا بیان

Share |
سرخی : f 243    پانی کی تجارت کرنا کیسا ہے؟
مقام : وجئے واڑہ ،آندھرا پردیش،انڈیا,
نام : محمد عبدالباقی
سوال:     آج کل بازار میں پانی کی بھی خرید وفروخت ہورہی ہے پاکٹ اور بوتل میں پانی فروخت کیا جارہا ہے کیا پانی کی تجارت شریعت میں جائز ہے ؟
............................................................................
جواب:     ہوا او رپانی ہر جاندار کی بنیادی ضرورت ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے وجعلنا من الماء کل شیٔ حی ۔
ترجمہ :اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی (سورۃالانبیاء 30) انسان غذا کے بغیر دوتین دن تک بھی زندہ رہ سکتا ہے لیکن پانی کے بغیر زندہ نہیںرہ سکتا ، اس لئے شریعت مطہرہ نے تالاب، نہر، کنویں وغیرہ کا پانی ہر ایک کے لئے مباح رکھا کسی کو اس سے روکنے کاحق نہیں اورنہ وہ کسی ایک شخص کی ملکیت ہے البتہ جب پانی کو برتن ، مشکیزہ، ٹینک وغیرہ میں محفوظ کرلیا جائے تو وہ انسان کی ملکیت قرار پاتا ہے۔ اس کو اختیار ہے خواہ مفت دے یا مال کے عوض بیچے، ازروئے شرع اس کی خرید وفروخت کی جاسکتی ہے ۔اگر پانی جمع کیا ہوا نہیں بلکہ کنویں وغیرہ میں ہے تو کنویں وغیرہ پر آکر پانی لینے والوں کوروکنا شرعاً جائز نہیں جیسا کہ جامع ترمذی شریف میں حدیث مبارک ہے عن ابی ہریرۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا یمنع فضل الماء ۔ترجمہ:سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زائد پانی کو نہ روکاجائے۔
ونیزردالمحتار ج 4 کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، مطلب صاحب البئر لایملک الماء ص 123میں ہے    ان صاحب البئرلایملک الماء۔ ۔ ۔ وہذامادام فی البئر أمااذا اخرجہ منہا بالاحتیال کمافی السوانی فلاشک فی ملکہ لہ لحیازتہ لہ فی الکیزان ثم صبہ فی البرک بعد حیازتہ ۔  
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com