***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > وراثت کا بیان

Share |
سرخی : f 246    زندگی میں حصہ کا مطالبہ
مقام : بنگلور،کرناٹک،انڈیا,
نام : صادق اشرفی،
سوال:     ایک صاحب کی خالہ صاحبہ کا ایک مکان تھا ‘انہوںنے اس مکان کو فروخت کردیا‘ان کی پانچ لڑکیاں ہیں ‘وہ اس مکان کی حاصل شدہ قیمت میں اپنے حصہ کا مطالبہ کررہی ہیں‘کیا ان لڑکیوں کا یہ مطالبہ کرنا درست ہے؟کیا انہیں مکان یا اس کی قیمت اپنی لڑکیوں کے درمیان تقسیم کرنی چاہئیے؟
............................................................................
جواب:     کسی بھی شخص کا مال واسباب ،مکان وجائیداد اس وقت ترکہ قرار پاتاہے جب وہ شخص انتقال کرجائے ‘اس شخص کی حین حیات کسی وارث کا کوئی شرعی حصہ ثابت نہیں ہوتا‘بنابریں حق وراثت رکھنے والے رشتہ داروں کو بھی مطالبہ کرنے کا شرعاًکوئی اختیار نہیں،جیسا کہ درمختار برحاشيۂ ردالمحتار ج5کتاب الفرائض میں ص535ہے  وهل إرث الحي من الحي أم من الميت؟ المعتمد الثاني.شرح وهبانية۔   
جب آپ کی خالہ صاحبہ نے اپنامکان فروخت کرلیا ہے تو وہ فرخت کرنے کی مجاز تھیں‘انہیں اپنی ملکیت میں تصرف کرنے کا اختیار ہے‘اس کی رقم کو وہ جیسا چاہیں استعمال کرسکتی ہیں‘ان کی لڑکیاں اس مکان کی حاصل شدہ قیمت میں شرعاکسی قسم کا کوئی مطالبہ نہیں کرسکتیں،ہاں اگر وہ خوداس رقم کوتقسیم کرنا چاہتی ہیں تواپنے لیے جتنی رقم مناسب سمجھیں رکھ کر بقیہ برابری کے ساتھ بیٹیوں میں تقسیم کریں اور کسی کو ان کی حسن خدمت کی  وجہ سے زیادہ بھی دینا چاہیں تو دے سکتی ہیں بشرطیکہ کسی دوسری بیٹی کو ضرر پہنچانے کی نیت نہ ہو ،ورنہ انہیں ان سب کے درمیان برابری کے ساتھ تقسیم کرنا چاہئیے‘جیسا کہ در مختار ج4 کتاب الھبہ ص573 میں فتاوی خانیہ سے منقول ہے لا باس بتفضیل بعض الاولادفی المحبۃ لانھا عمل القلب کذا فی العطایا ان لم یقصد بہ الاضرار وان قصدہ سوی بینہم۔  
واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com