***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > سجدۂ سہو کے مسائل

Share |
سرخی : f 25    نماز میں تین تسبیحات کے برابر خاموش رہنے کا حکم
مقام : پونے,
نام : محمدعارف اشرفی
سوال:    

کیا حالت نماز میں تین تسبیحات کی مقدار خاموش رہنے سے سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے؟


............................................................................
جواب:    

سجدۂ سہو واجب ہونے کی وجوہات میں تاخیر رکن اور تاخیر واجب ہے، اگر کوئی شخص دوران نماز اتنی دیر خاموش رہ جائے کہ ایک رکن ادا کیا جاسکتا ہے تو وہ تاخیر رکن یا تاخیر واجب کہلاتاہے، ایک رکن کی ادائیگی کی مقدار تین تسبیحات پڑھنے کے بقدر بتلائی گئی ہے، لہذا اگر کوئی صاحب ،نماز میں تین تسبیحات پڑھنے کی مقدار خاموش رہیں تو انہیں سجدۂ سہو کرنا چاہئے۔ جیسا کہ ردالمحتار علی الدر المختار ج1،ص558،میں ہے :والحاصل انه اختلف فی التفکر الموجب للسهو فقيل مالزم منه تاخير الواجب او الرکن عن محله بان قطع الاشتغال بالرکن او الواجب قدر اداء رکن وهو الاصح- منحة الخالق علی البحر الرائق ج،شرائط نماز کے بیان میں ص74/473 پر ہے :هل المراد منه قدر رکن طويل بسنته کالقعود الاخير اوالقيام المشتمل علی قراء ة المسنون اوقدر رکن قصير کالرکوع او السجود بسنته ای قدر ثلاث تسبيحات وبالثانی جزم البرهان ابراهيم الحلبی فی شرح المنية حيث قال وذلک مقدار ثلاث تسبيحات اه فافاد ان المراد اقصر رکن وکانه لانه الاحوط ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com