***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > قربانی کا بیان > قربانی کے جانور

Share |
سرخی : f 269    خارش زدہ جانور کی قربانی کا حکم
مقام : حیدرآباد .انڈیا,
نام : ایم اے جاوید‘
سوال:    

میں ہر سال قربانی کے جانوروں کا کاروبار کرتاہوں‘ بعض جانوروں میں بیماریاں ہوتی ہیں‘ بہت زیادہ دبلے جانور ہوں تو میں خود قربانی کے لئے نہیں بیچتا‘ کسی جانور میں خارش ہوتی ہے ، ایسے جانور جن کو خارش ہو کیا ان کی قربانی صحیح ہوتی ہے ؟ حالانکہ وہ دبلے بھی نہیں ہوتے ۔ مہربانی کرکے اس سوال کا جواب ضرور دیجئے۔


............................................................................
جواب:    

اگر کسی جانور کو خارش کی بیماری لاحق ہوتو اس سلسلہ میں یہ دیکھا جائے کہ خارش ‘جانور کی کھال تک ہی محدود ہے یا بڑھ کر اس کے گوشت پر اثر انداز ہوچکی ہے ‘خارش اگر جانور کی کھال تک ہی محدود ہو تو ایسے جانور کی قربانی درست ہے کیونکہ کھال خارش زدہ ہونے سے گوشت متاثر نہیں ہوتا اور اگر خارش اس قدر ہو کہ جانور نحیف ولاغرہو چکا ہے اور اس کی ہڈی میں مغز باقی نہ رہا توسمجھا جائے گا کہ خارش گوشت پر بھی اثر انداز ہوچکی ہے اور گوشت تک خارش کا سرایت کرجانا جانور کے لئے عیب ہے‘ بنابریں ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں۔ جیسا کہ درمختارکتاب الاضحیۃ ج5ص 227 میں ہے: ( والجرباء السمینۃ ) فلو مہزولۃ لم یجز ، لأن الجرب فی اللحم نقص ۔ رد المحتار کتاب الاضحیۃج5ص 227 میں ہے : ( قولہ فلو مہزولۃ إلخ ) قال فی الخانیۃ : وتجوز بالثولاء والجرباء السمینتین ، فلو مہزولتین لا تنقی لا یجوز إذا ذہب مخ عظمہا ، فإن کانت مہزولۃ فیہا بعض الشحم جاز یروی ذلک عن محمد ا ہ۔ قولہ لا تنقی مأخوذ من النقی بکسر النون وإسکان القاف : ہو المخ : أی لا مخ لہا ، وہذا یکون من شدۃ الہزال فتنبہ . واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ،شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com