***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > قربانی کا بیان > قربانی کے جانور

Share |
سرخی : f 270    بے دانت جانور کی قربانی کا حکم
مقام : کریم نگر,
نام : احمد محی الدین‘
سوال:    

قربانی کے بعض جانور وں کے کچھ دانت ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں‘ کوئی جانور تو بے دانت ہی ہوتا ہے۔ کیا ٹوٹے ہوئے دانتوں والے جانور یا بے دانت جانور کی قربانی درست ہوگی؟


............................................................................
جواب:    

قربانی کا جانور اگر بالکلیہ طور پر بے دانت ہو یا اس کے اکثر دانت نہ ہوں تو ازروئے شریعت اس کی قربانی جائز نہیں اور اگر جانور کے اکثر دانت موجود ہوں صرف چند دانت جاچکے ہوں تو اس کی قربانی درست ہے ۔ درمختار کتاب الاضحیۃ ج5ص 228میں ہے : ( ولا ) ( بالہتماء ) التی لا أسنان لہا ، ویکفی بقاء الأکثر ، وقیل ما تعتلف بہ رد المحتار کتاب الاضحیۃ ج5ص 228 میں ہے ( قولہ وقیل ما تعتلف بہ ) ہو وما قبلہ روایتان حکاہما فی الہدایۃ عن الثانی ، وجزم فی الخانیۃ بالثانیۃ ، وقال قبلہ : والتی لا أسنان لہا وہی تعتلف أو لا تعتلف لا تجوز واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com