***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > قربانی کا بیان > قربانی کے جانور

Share |
سرخی : f 271    ذبح کے وقت عیب پیدا ہوتو قربانی کا حکم
مقام : بنجارہ ہلز,
نام : محمد عبدالرحیم‘
سوال:    

ذبح کرتے وقت اگر جانور اچھلنے لگے اور اس وقت جانور کا پیر ٹوٹ جائے تو کیا دوسرا جانوار خرید نا ہوگا یا اسی ٹوٹے پیر والے جانور کی قربانی صحیح ہوگی؟


............................................................................
جواب:    

قربانی کے لئے صحیح سالم جانور ہونا چاہئے ، ازروئے شریعت عیب والے جانور کی قربانی درست نہیں ‘ البتہ ذبح کے وقت جانور اچھلنے کی وجہ سے اگر اس کا پیر ٹوٹ جائے یا کوئی بھی عیب پیدا ہوجائے‘ تو یہ عیب قربانی کے لئے ضرر رساں نہیں ہوتا۔ اگر بوقت ذبح اچھلنے کودنے کی وجہ سے جانور میں عیب آجائے‘ اس کے بعد جانور ہاتھ سے چھوٹ جائے‘ پھر اُسے فوری طور پر پکڑ لیا جائے ‘ تب بھی اس صورت میں قربانی درست ہے۔ ردالمحتار کتاب الاضحیۃج5ص 228میں ہے : ( قولہ ولا یضر تعیبہا من اضطرابہا إلخ ) وکذا لو تعیبت فی ہذہ الحالۃ وانفلتت ثم أخذت من فورہا ، وکذا بعد فورہا عند محمد خلافا لأبی یوسف لأنہ حصل بمقدمات الذبح زیلعی ۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com